.

جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کا دعوت نامہ منسوخ

شام میں عبوری حکومت کی حمایت نہ کرنے پر یو این سیکریٹری جنرل کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے شام میں عبوری حکومت کے قیام کی حمایت نہ کرنے پر ایران کو اسی ہفتے جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت کے لیے بھیجا گیا دعوت نامہ منسوخ کردیا ہے۔

بین کی مون کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وہ (بین ) ایران پر زوردیتے رہے ہیں کہ وہ جنیوا اعلامیے کے لیے عالمی حمایت میں شامل ہوجائے لیکن اس نے اس بنیادی تفہیم سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے پیش نظر انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ایک روزہ اجتماع ایران کی شرکت کے بغیر ہوگا''۔

قبل ازیں بین کی مون نے یہ کہا تھا کہ ایران کا جنیوا میں 2012ء میں طے پائے معاہدے کی حمایت نہ کرنے سے متعلق بیان ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کی جانب سے انھیں کرائی گئی یقین دہانیوں کے مطابقت نہیں رکھتا۔
شامی حزب اختلاف نے جنیوا دوم مذاکرات میں ایران کی شرکت کی صورت میں بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی اور امریکا نے بھی یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایران جنیوا اعلامیے کی حمایت نہیں کرتا تو پھر اس کو بھیجا گیا دعوت نامہ منسوخ کردیا جائے۔واضح رہے کہ جنیوا میں جون 2012ء میں منعقدہ امن مذاکرات میں شام میں صدر بشار الاسد کی جگہ عبوری حکومت کے قیام پر زوردیا گیا تھا۔

بین کی مون کے ترجمان کی جانب سے مذکورہ اعلان سے چندے قبل اقوام متحدہ میں ایران کے ایلچی محمد خزاعی نے اپنے ملک کی جانب سے جنیوا اعلامیے کی حمایت نہ کرنے کی تصدیق کی تھی۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ اس بحران کے سیاسی حل کا حامی رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ایران جنیوادوم کانفرنس میں شرکت کے لیے کسی پیشگی شرط کو ماننے کو تیار نہیں۔اگر اس کی شرکت جنیوا اول کے اعلامیے کو تسلیم کرنے سے مشروط کی جاتی ہے تو پھر وہ جنیوا دوم شرکت نہیں کرے گا''۔

واضح رہے کہ ایران اور روس شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کرتے چلے آرہے ہیں اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اگلے روز ہی کہا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کو 22 جنوری کو جنیوا میں ہونے والی شام کے بارے میں دوسری کانفرنس میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔تاہم ان کے امریکی ہم منصب جان کیری کا کہنا تھا کہ جنیوا دوم کانفرنس میں ایران کو خوش آمدید کہا جائے گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شام میں بعد از بشارالاسد انتقال اقتدار کی تجویز سے اتفاق کرے۔