.

بھارت: پولیس شاہی کیخلاف وزیر اعلی کا تاریخی دھرنا ختم

مرکزی حکومت نے دو پولیس افسروں کو رخصت پر گھر بھیج دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی سیاسی اور حکومت تاریخ کا انوکھا احتجاجی دھرنا بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ختم ہو گیا ہے۔ یہ دھرنا وزیراعلی نئی دہلی اروند کیجریوال اور ان کی کابینہ کی قیادت میں تیس گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران وزیر اعلی نے بھی رات سڑک پرسو کر گذاری۔

نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے یہ احتجاجی دھرنا مرکز کے زیر کنٹرول پولیس کی قحبہ خانے اور منشیات کے اڈے کے خلاف کارروائی سے انکار، سیاحت کیلیے آنے والی مغربی ملکوں کی خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں کے بھارت میں پے در پے ہونے والے واقعات اور سسرالیوں کے ہاتھوں بہو کے زندہ جلائے جانے ایسے واقعات اور اس سلسلے میں پولیس کی روایتی بے حسی کیخلاف تھا۔

دھرنے کے دوران وزیر اعلی اروند کیجریوال نے عام آدمی پارٹی کے لیڈر ہونے اور عام لوگوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی مثال مسلسل تیس گھنٹے تک سڑک پر دھرنا دے کر اور رات بھی سڑک پر سو کر قائم کر دی۔ اس دوران کابینہ کا اجلاس گاڑیوں میں بیٹھ کر کیا جاتا رہا۔

وزیر اعلی نے بھارتی جنتا کو درپیش مظالم کے بارے میں پولیس کی بے اعتنائی کے خلاف دھرنے کو بھارتی یوم جمہوریہ جسے کشمیری عوام دنیا بھر میں یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کو بھی یوم جمہوریہ ماننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر مرکزی حکومت نے پولیس کے حوالے سے مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ عوام کے ساتھ اتوار کے روز 26 جنوری کو بھی احتجاج کریں گے۔

کیجریوال کے مطابق یہ جمہوریہ نہیں ہے کہ اعلی شخصیات اسلحے کی نمائش اور پریڈ دیکھ لیں، انہوں نے کہا وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں یوم جمہوری منائیں گے ، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کس کے لیے منائیں گے؟ یہ احتجاج کرنے والے ہمارے اپنے لوگ ہیں پاکستان یا امریکا سے نہیں آئے ہیں۔''

بدھ کی رات وزیر اعلی کی زیر قیادت عوامی غصے کے اس بڑھتے سیلاب کو دیکھ کر گورنر نجیب جنگ نے دہلی کابینہ کے ایک رکن کے ساتھ فون پر رابطہ کیا اور مفاہمت کیلیے نکات پیش کیے۔ اس فون کال کے بعد وزیر اعلی نے دو گھنٹے تک اپنی کابینہ کا اجلاس مقامی پریس کلب میں منعقد کیا اور دو پولیس افسروں کو رخصت پر گھر بھجنے کے مرکز کے فیصلے اور گورنر کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کرنے کا عوام کے سامنے اعلان کر دیا۔

واضح رہے دہلی کی عام آدمی حکومت نے یہ دھرنا وزیر قانون سومناتھ بھارتی کے کہنے پر ایک منشیات کے اڈے اور قحبہ خانے کیخلاف کارروائی کرنے سے پولیس کے انکار کے بعد کیا تھا۔ جبکہ اس موقع پر ڈنمارک کی سیاح خاتون اور ایک بھارتی خاتون کے سسرالیوں کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے کے واقعات پر بھی پولیس کے روایتی رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔