.

افریقی سربراہی کانفرنس، عدم دعوت پر مصر کا اظہار حیرت

امریکہ نے غلطی کا ارتکاب اور دانش کی کمی کا مظاہرہ کیا: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے اس امر پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ اس کے دیرینہ اتحادی امریکا نے افریقی ممالک کی سربراہی کانفرنس کیلیے اسے دعوت نہیں دی ہے۔ اس افریقی سربراہی کانفرنس کا انعقاد امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے جا رہا کیا ہے ۔

اس امریکی فیصلے سے سوڈان اور زمبابوے کے بعد مصر بھی بین الاقوامی سطح پر اچھوت بنا دیے گئے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ اس لیے مصر کو بھی اس عظیم الشان سربراہی کانفرنس میں شریک نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مصر کو اس اہم افریقی کانفرنس سے الگ رکھنے کی وجہ امریکی حکام کے مطابق یہ ہے کہ افریقی یونین نے مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی جولائی 2013 میں فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد مصر کی رکنیت معطل کر رکھی ہے۔ لہذا مصر اس اہم کانفرنس میں شرکت کا حق نہیں رکھتا ہے۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی فیصلے کو ایک غلطی اور دانشمندی سے ہٹا ہوا قرار دیا ہے۔ واضح رہے امریکا نے منتخب صدر کی برطرفی پر بھی تحفظات ظاہر کیے تھے اور اکتوبر 2013 کے دوران مصر کی فوجی امداد کا کچھ حصہ روک لیا تھا۔

حتی کہ گزشتہ ہفتے فوجی سرپرستی میں قائم عبوری حکومت نے نئے دستور کی منظوری کیلیے ریفنڈم کرایا تو بھی امریکا نے خوشی کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ امریکی ترجمان نے اس پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا '' یہ ایسی عوامی رائے کا اظہار نہیں ہے جو جمہوریت کا احاطہ کرتی ہو۔''