.

شام طوائف الملوکی کی آگ میں جل رہا ہے:حسن روحانی

عبوری جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے بعد یورپ کے ساتھ تعلقات معمول پر آجائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام طوائف الملوکی کی آگ میں جل رہا ہے''۔انھوں نے شامی مہاجرین کی صورت حال کو افسوسناک قراردیا ہے۔

حسن روحانی نے کہا کہ ڈیووس میں عالمی کاروباری شخصیات اور سیاسی لیڈروں سے خطاب میں کہا کہ ''انھیں بھی شام میں دہشت گردوں کے داخلے پر افسوس ہے۔ہمیں دہشت گردوں کو شام سے نکال باہر کرنا چاہیے اور جو ممالک دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں،ہمیں انھیں بتانا چاہیے کہ ان کے اس طرح کے اقدامات ان کے اپنے مفاد میں نہیں کیونکہ وہ دہشت گردوں کا اگلا ہدف ہوں گے''۔

ایرانی صدر نے کہا کہ شام میں جاری خانہ جنگی کا بہترین حل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے اورکسی بھی بیرونی پارٹی یا طاقت کو شامی عوام یا شام کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے''۔

ایران نے شامی صدر بشارالاسد کی مالی اور اسلحی مدد کی ہے اور ان کی حمایت میں لڑنے کے لیے اپنے مسلح کارندے بھیجے ہیں۔اس نے جنیوا میں جاری مذاکرات میں شرکت کے لیے شامی صدر کی رخصتی کی پیشگی تجویز بھی مسترد کردی تھی۔

شامی صدر بشارالاسد کے حامی ملک ایران نے جنیوا اوّل کے اعلامیے کی حمایت نہیں کی تھی جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے اس کو گذشتہ سوموار کو جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت کے لیے بھیجا گیا دعوت نامہ منسوخ کردیا تھا۔

شامی حزب اختلاف نے جنیوا دوم میں ایران کی شرکت کی صورت میں بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی اور امریکا نے بھی یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایران نے جنیوا اعلامیے کی حمایت نہیں کی،اس لیے اس کو بھیجا گیا دعوت نامہ منسوخ کردیا جائے۔

ایرانی صدر نے جوہری پروگرام کے تنازعے کے حوالے سے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعمیری انداز میں بات چیت جاری ہے لیکن ہم امریکا کی جانب سے اس کے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کے منتظر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عبوری جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے بعد یورپ کے ساتھ تعلقات معمول پر آجائیں گے۔انھوں نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ نظری اور عملی طور پر ہماری حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ دنیا کے ساتھ تعمیری انداز میں معاملہ کاری کی جائے۔

جب ان سے عالمی اقتصادی فورم کے بانی کلاس شواب نے کہا کہ کیا ان کا مطلب پوری دنیا ہے تو انھوں نے اس کا زیادہ وضاحت سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ''اسلامی جمہوریہ ایران ان تمام ممالک سے رابطہ کرے گا،جن کو وہ تسلیم کرتا ہے''۔واضح رہے کہ ایران صہیونی ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔