.

ایران گذشتہ آٹھ برسوں میں کرپشن کا گڑھ بنا: رفسنجانی

کرپشن کے کئی اسکینڈل ابھی پردہ راز میں ہیں: سابق صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی گارڈین کونسل کے چیئرمین اور اعتدال پسند سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کے آٹھ سالہ دور صدارت میں ملک بدترین کرپشن کا شکار رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپشن اور قومی خزانے کی لوٹ مار کےکئی واقعات ابھی پردہ رازمیں ہیں۔ ان کے سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔

ھاشمی رفسنجانی نے فارسی زبان کے نیوز ویب پورٹل "انتخاب" کو دیے گئے ایک انٹرویومیں کہا کہ احمدی نژاد کے دور حکومت میں عالمی اقتصادی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں۔ لیکن ان کے دور حکومت میں تیل کی فروخت، سامان کی درآمدات اور رقوم کی منتقلی نہایت حساس امور رہے ہیں، جن میں غیرمعمولی کرپشن اور لوٹ مار کی گئی۔ حکومت چاہتی توحسن انتظام سے ان تمام مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرسکتی تھی۔ اب بھی ہم بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوشش کریں تواس ناسور کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ"مجھے نہیں معلوم کہ محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں عالمی اقتصادی پابندیوں کےاثرات کم کرنے کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوئی ہیں، کیونکہ نژاد جو کچھ بھی کرتے رہے وہ سب خفیہ طور پر تھا۔ انہوں نے اپنے پروگرام میں ایسے لوگوں سے معاونت حاصل کی جن کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔

خیال رہے کہ محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں جن لوگوں کے خلاف کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں ان میں سابق صدر کے ایک مقرب خاص بابر زنجانی بھی شامل ہیں۔ مسٹر زنجانی نے تیل کی آمدن سے 02 ارب ڈالر کی رقم اپنے پاس رکھ لی تھی جو قومی خزانے میں جمع نہیں کرائی تھی۔ اس کے علاوہ ترکی سے مختلف کمپنیوں کے ذریعے رضا ضراب نامی کاروباری شخصیت نے دو ارب ستر کروڑ ڈالر کا کالا دھن ایران بھیج کرسفید کیا۔ یہ رقوم بھی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے ایک مقرب نیٹ ورک کے ذریعے ہی ایران بھجوائی گئی تھیں۔