.

تمام غیر ملکی جنگجو شام سے نکل جائیں:ایران

غیرملکی انتہاپسند اپنے گھروں کو واپس جائیں گے تو مسائل پیدا ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام سے تمام غیرملکی جنگجوؤں کا انخلاء چاہتا ہے۔

وہ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے تعاون سے العربیہ کے پینل میں گفتگو کررہے تھے۔البتہ انھوں نے خانہ جنگی کا شکار ملک سے اپنی اتحادی لبنانی عسکری جماعت حزب اللہ کے جنگجوؤں کے انخلاء کی بات نہیں کی جو وہاں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

انھوں نے کہا:''میں تمام غیرملکی فورسز سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ وہاں (شام) سے نکل جائیں اور شامی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیں''۔انھوں نے غیرملکی فورسز سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ شام میں فنڈز ،رقوم اور اسلحے کو بھیجنے کا عمل ترک کردیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ''شام کی صورت حال نے دہشت گردوں کے پھلنے پھولنے کا موقع پیدا کردیا ہے۔شام میں لڑنے والے بہت سے انتہا پسند دنیا بھر سے آئے ہیں۔وہ یورپ ،مشرق وسطیٰ اور ہر کہیں سے آرہے ہیں۔جب وہ واپس اپنے گھروں کو جائیں گے تو پھر وہ ہم سب کے لیے تباہی لائیں گے''۔

جواد ظریف نے اس التباس فکر کو ختم کرنے کی ضرورت پر زوردیا کہ شامی بحران کا کوئی فوجی حل بھی ہوسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور یہ کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔

العربیہ کے پینل کا موضوع :''مشرق وسطیٰ کے لیے گیم کا خاتمہ''تھا اور اس میں سرعت رفتار سفارت کاری ،تاریخی مخاصمتوں اور سماجی تبدیلیوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے نئے خدوخال کا جائزہ لیا گیا۔فورم کے مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بنیادی تبدیلیاں لا کر اس کو مستقبل کی نسلوں کے لیے مستحکم اور خوشحال بنایا جاسکتا ہے۔

اس پینل کی ماڈریٹر العربیہ کی سینیر اینکر ریما مکتبی تھیں اور اس کے دوسرے مقررین میں عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی،ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو ،اردنی وزیرخارجہ ناصر جودہ،پیرس اسکول برائے بین الاقوامی تعلقات کے ڈین غسان سلامے،امریکا کی خارجہ تعلقات کونسل کے صدر رچرڈ این حاس شامل تھے۔