.

جنوبی سوڈان : حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ

سابق نائب صدر کی معاہدے میں شمولیت پر شبہات، امریکا کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی سوڈان کی حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان 15 دسمبر سے جاری لڑائی کو روکنے کیلیے جنگ بندی معاہدہ ہو گیا ہے، تاہم فوجی ترجمان نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ سابق نائب صدر کا حامی گروپ ممکنہ طور پر اس امن معاہدے کے حق میں نہیں ہو گا۔ تقریبا چالیس دن کو چھونے والی اس اندرونی خلفشار کے دوران ہزاروں سویلین و فوجی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ اس امن معاہدے پر اتفاق کرنے والے گروپوں میں سے کون کون سا گروپ اس کا باضابطہ حصہ بنا ہے اور کب تک اس معاہدے پر عمل درآمد کیلیے تیار ہے۔

جنوبی سوڈان میں پچھلے ماہ سے شروع ہونے والی خونریزی کے بارے میں فوجی ترجمان کرنل فلپ آگورنے کہا ''رایک ماشر فوج کے خلاف طاقت استعمال کر رہا ہے اس لیے ہم دیکھیں گے اس معاہدے کے بعد آئندہ دنوں میں کیا ہوتا ہے۔''

ترجمان کا مزید کہنا تھا '' سیاسی مناصب کے حصول کی خاطر جنگ کسی کیلیے بھی اچھی نہیں ہو سکتی ہے، اس جنگ کی وجہ سے معصوم شہری مر رہے ہیں لہذا عوام کو امن کی ضرورت ہے۔''

امن معاہدے کیلیے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نہیل ڈینگ نہیل نے اس بارے میں کہا '' وہ اپنے گروپ کے حوالے سے پریشان ہے کہ اس کے گروپ میں بہت سے عام شہری اسلحہ برداروں میں شامل ہیں، بلاشبہ سویلین لوگ فوجی نظم ضبط کے انداز میں منظم نہیں ہوتے لہذا معاہدے پر عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔''

امریکی ترجمان جے کارنی نے جنوبی سوڈان میں ہونے والی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا یہ تشدد کے خاتمے کیلیے ایک پر خطر قدم ہے جو پائیدار امن کیلیے اٹھایا گیا ہے۔'' ترجمان نے توقع کی کہ دونوں فریق پوری طرح اس کی روح کے ماطبق اس معاہدے پر عمل کریں گے۔ امریکی ترجمان نے یہ بھی کہا '' امریکا امن کے راستے پر چلنے والوں کے ساتھ مسلسل شراکت جاری رکھے گا۔''

واضح رہے چند ہفتوں کے دوران فوجی اور شہری مراکز میں پھیل جانے والی لڑائی کے دوران ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے قائم کردہ مراکز میں چھہتر ہزار شہریوں نے پناہ لے رکھی ہے۔