.

لبنانی نژاد امریکی وکیل کو اخوان کی دھمکی پر"ایف بی آئی" کی تحقیقات

دھمکیاں ٹیوٹر، ای میل اور ٹیلیفون کال کے ذریعے گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے"ایف بی آئی" نے مصر کی اخوان المسلمون کی جانب سے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے حامی ایک لبنانی نژاد امریکی وکیل کو قتل کرنے کی دھمکیوں کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

داؤد خیر اللہ نامی وکیل کو گذشتہ ہفتے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اخوان المسلمون کے کارکنوں کی جانب سے قتل کی مبینہ دھمکی کے بعد امریکی حکام نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ دھمکی دینے والے شخص نے "ٹیوٹر" پرلکھا کہ ہم" جنرل عبدالفتاح السیسی اور اس کے غلاموں کو بھی قتل کریں گے۔ یہ ٹیوٹس انگریزی زبان میں تھیں، جن میں مزید لکھا گیا تھا کہ "داؤد خیر اللہ جنگی مجرم جنرل عبدالفتاح السیسی کی حمایت کر رہا ہے، اس لیے اسے بھی ٹھکانے لگایا جائے گا۔ یہ ہمارا وعدہ ہے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اخوان کے حامیوں کی جانب سے سامنے آنے والی دھمکی پر وکلاء کی عالمی تنظیم کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش اس امر پر ہے کہ یہ دھمکی آمیز بیانات مصر کی اس تنظیم کی جانب سے سامنے آئے ہیں جو تمام تر پابندیوں کے باوجود اب بھی طاقتور سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اخوان المسلمون کے کارکنوں کی جانب سے دادؤ خیر اللہ کو ٹیوٹر پر پیغام کے علاوہ ای میل کے ذریعے بھی مطلع کیا گیا ہے کہ اسے جنرل السیسی کی حمایت مہنگی پڑے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اس ای میل کی تفصیلات ملی ہیں جس میں داؤد خیرل اللہ کو دھمکی دیتے ہوئے لکھا ہے لکھا گیا ہے کہ" مصر کے انقلابی خود قانون اور عدالتوں کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے وکلاء کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں [انقلابیوں] نے ایڈووکیٹ داؤد خیر اللہ جیسے لوگوں کے ساتھ معاہدے کر رکھے ہیں کہ انہیں اپنے جرائم پرعدلیہ کا سامنا نہ کرنا پڑے"۔

اخوانی عناصر کی جانب سے ملنے والی دھمکی آمیز ای میل میں داؤد خیر اللہ کے دفتر کے فون اور فیکس نمبر بھی موجود ہیں۔ ای میل میں عربی میں انہیں کہا گیا ہے کہ وہ جنرل السیسی اور اس کے ساتھیوں کی حمایت چھوڑ دیں کیونکہ جنرل سیسی اور اس کو سپورٹ کرنے والے مصری عوام کے دشمن ہیں۔ مصر کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

اسی ای میل میں داؤد خیراللہ کی ایک تصویر اور ایک ٹاک شو میں گفتگو کی ویڈیو فوٹیج بھی شامل ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پروگرام کے میزبان اور مصری ملٹری انٹیلی جنس کے درمیان وکلاء کو خریدنے کے لیے ایک معاہدہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں جنرل السیسی نے وکلاء کی خدمات حاصل کرنے لیے 20 ملین آسٹریلوی پاؤنڈ کی خطیر رقم مختص کر رکھی ہے۔ داؤد خیر اللہ کو پروگرام کے میزبان نے اس لیے بلا رکھا ہے کیونکہ یہ بھی خریدے گئے وکلاء میں شامل ہے۔

فون پر دھمکی

"ٹیوٹر" اور ای میل کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات وصول کرنے کے اگلے روز داؤد خیراللہ جب اپنے دفتر پہنچے تو انہیں ایک نامعلوم شخص کی کال موصول ہوئی، جس میں انہیں مختلف قسم کی دھمکیاں دی گئیں۔ داؤد خیراللہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد وہ متعدد ایسے نامعلوم لوگوں کی کالیں سن چکا ہے جن میں اسے جنرل عبدالفتاح السیسی کی قانونی معاونت پر قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔

مسلسل دھمکیوں کے بعد داؤد خیراللہ نے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" سے رابطہ کیا اور تمام تفصیلات سے آگاہ کرنے کے بعد ادارے سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دھمکیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد عالمی لائرز کمپنی کی جانب سے خیراللہ کی سیکیورٹی بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایف بی آئی نے اپنے طور پر واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم مصر روانہ کر دی ہے جو دھمکی آمیز مواد کا جائزہ لینے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔