.

الجزائر میں سبزی فروش صدر بننے کا خواہاں

اخبار کے ایڈیٹر سمیت خانہ بدوش بھی صدارت کا خواب دیکھنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقا کے اہم عرب ملک الجزائر میں پیش آئند صدارتی انتخابات میں اشرافیہ کے من پسند امیدواروں کے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا خواب دیکھ رہے ہیں، جن میں سے بعض ناخواندہ اورغریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ایک سبزی فروش، اخبار کا ایڈیٹر،شاعر، پینیٹر اورایک خانہ بدوش بھی شامل ہیں۔

الجزائر حکومت کے اعلان کے مطابق ملک میں صدارتی انتخابات آئندہ اپریل میں ہونے جا رہے ہیں۔ صدارتی الیکشن میں قسمت آزمائی کا عزم رکھنے والے سبزی فروش عیاش حفا ئفہ کا تعلق وسطی شہرباب الواد کالونی سے ہے۔

عیاش نے "العربیہ" نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے نہایت اعتماد اور اطمینان کے ساتھ کہا کہ "لوگ چاہے جتنا اس کا مذاق اڑائیں کہ ایک سبزی فروش ملک کا صدر بننے کا خواب دیکھ رہا ہے، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں پیشے کے اعتبار سے ایک سبزی فروش ہوں اور اپنی اسی حیثیت کے مطابق اگر صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا خواہاں ہوں تو اس میں کیا حرج ہے؟ کیا کوئی سبزی فروش ملک کا صدر نہیں بن سکتا ہے"۔

ایک سوال کے جواب میں سبزی فروش صدارتی امیدوار کا کہنا تھا کہ وہ کالعدم اسلامک سالویشن فرنٹ کے فکر و فلسفے کا حامی ہے اور اسی کے منشور کے تحت ملک کا نظم ونسق چلانے کا متمنی ہے۔

سبزی فروش عیاش خفائفہ کے ساتھ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا خواب دیکھنے والوں میں جمال سعدی نامی ایک شاعر بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ایک پینٹر اور اخبار "الدیار" کے ایڈیٹر کے دل میں بھی الجزائر کا صدر بننے کو خو سمائی ہے۔

شاعر جمال سعدی نے "العربیہ" کو بتایا کہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی کا اپنا ایک پروگرام رکھتا ہے۔ اس کے ترقیاتی پروگرام میں معیشت کی بہتری، سیاسی اصلاحات اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی بھی شامل ہے۔

الجزائر کی ایک جنوب مشرقی ریاست کے محمد حمانی نامی خانہ بدوش بھی ان افراد میں شامل ہیں جو منصبِ صدارت کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ "العربیہ" نے جب اس سے رابطہ کیا تواس نے اپنی اس معصوم خواہش کی تصدیق کی مگر باضابطہ طور پر امیدوار بننے کے اعلان تک اپنی تصویر فراہم کرنے یا کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

ادھر الجزائر کی وزات داخلہ کے مطابق صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند 40 سے زائد امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔ حکومت نے اس بار ہونے والے صدارتی انتخابات کی نگرانی اور اس کے انتظامات کے لیے دو الگ الگ کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں۔ پولنگ شفاف بنانے کے لیے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 360 ججوں کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔