.

الجزائر: بڑی اپوزیشن جماعت کا صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان

بوتفلیقہ کے امیدوار بننے پر اخوان کا بھی بائیکاٹ میں شامل ہونے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقا کے اہم عرب ملک الجزائر میں صدارتی انتخابات سے تین ماہ پہلے ہی ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ الجزائری اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعٹ "نیشنل سوسائٹی کونسل برائے ثقافت وجمہوریت" نے 17 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کی بنیادی وجہ صدر عبد العزیز بوتفلیقہ کا چوتھی مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ممکنہ فیصلہ ہے۔ ملک کی ایک دوسری بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون نے بھی صدر بوتفلیقہ کی جانب صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کی صورت میں انتخابات کے بائیکاٹ کا عندیہ دیا ہے۔

سیکولر نظریات کی حامل نیشنل سوسائٹی پارٹی برائے ثقافت وجمہوریت کے ترجمان عثمان معزوز نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ ان کی جماعت کی شوریٰ نے مکمل اتفاق رائے سے پیش آئند صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کا کہ جن حالات میں صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ان میں انتخابات کے شفاف اور غیر جانب دار ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے۔ پارٹی مرکزی قیادت نے بڑے غور خوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صدارتی انتخابات محض ایک ڈھونگ ہوگا کیونکہ موجودہ حکومت ہی دوبارہ عوام کی گردنوں پر سوارہونے کے لیے ریاستی مشینری کو استعمال کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ اس لیے ہم نےصدارتی انتخابات کے اس ڈرامے کو مسترد کردیا ہے۔

خیال رہے کہ نیشنل سوسائٹی پارٹی نے سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں بھی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ گذشتہ برس مئی میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں بھی اس جماعت نے حصہ نہیں لیا ہے۔ عثمان معزوز کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سمیت ملک کی سرکردہ 40 سیاسی جماعتوں نے حکومت سے صدارتی انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے انتخابی عمل پر وزارت داخلہ کی نگرانی ختم کرنے اور الیکشن کمیشن سمیت انتخابی اداروں کو آزادانہ کام کرنے کا موقع دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ان کا مطالبہ منظور نہیں کیا گیا۔ وزارت داخلہ کا قلم دان اب بھی صدر بوتفلیقہ کے ایک منظور نظر وزیر کے پاس ہے جو انتخابات میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

واضح رہے نیشنل پارٹی کی جانب سے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کے بعد ملک میں پیش آئند الیکشن کے بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ اس سے قبل اخوان المسلمون کے منحرف لیڈروں پر مشتمل جماعت "فرنٹ برائے تبدیلی نظام" اور یونین پارٹی برائے تبدیلی و ترقی نے بھی صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کر چکی ہیں۔

درایں اثناء الجزائرمیں اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ "تحریک برائے پرامن سوسائٹی" کی جانب سے بھی دھمکی دی گئی ہے کہ اگر صدر بوتفلیقہ چوتھی مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کریں گے تو جماعت صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ جماعت کے صدر عبدالرزاق مقری نے الجزائری اشرافیہ اور حکومت پرکڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر بوتفلیقہ نے ملک کو جمہوریت کی پٹری سے اتار کرمطلق العانیت اور فردواحد کی حکمرانی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ صدر بوتفلیقہ ایک مرتبہ پھر اقتدار کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے ہیں۔