.

ایران: لاریجانی کی 'شان میں گستاخی' پر فاطمہ رفسنجانی کو چھ ماہ قید

علی لاریجانی کا کیس سے لاتعلقی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک عدالت نے ملک کے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ھاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی فاطمہ رفسنجانی کو مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کے چیئرمین علی لاریجانی کی شان میں گستاخی کی پاداش میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

فاطمہ رفسنجانی کے وکیل وحید ابو المعالی نے بتایا کہ ہمیں عدالت کی جانب سے ایک تازہ فیصلہ موصول ہوا ہے جس میں میری مؤکلہ کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاطمہ رفسنجانی کو یہ سزا دو سال قبل بھی سنائی گئی تھی لیکن اسلامی قانون تعزیرات کے تحت اس پرعمل درآمد موخر کردیا گیا تھا۔ وکیل نے عدالتی فیصلے کوغیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی اعلان کیا۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں میں باہمی الزام تراشی کی بنیاد یہ مقدمہ دو سال قبل اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک رکن شوریٰ نے فاطمہ کے بھائی مہدی رفسنجانی کو "چور" قرار دیا تھا۔ اس پر فاطمہ رفسنجانی نےسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب صدر محمود احمدی نژاد نے مجلس شوریٰ کے چیئرمین علی لاریجانی کے خاندان پر الزام تراشی کی تھی تب مجلس شوریٰ نے اپنے چیئرمین کے خاندان کے دفاع میں 45 منٹ صرف کر دیے تھے لیکن جب میرے بھائی اور خاندان پر تہمتیں لگائی گئیں تو مجلس شوریٰ کے چیئرمین کے پاس اس کا جواب دینے کے لیے ایک منٹ بھی نہیں تھا"۔

دونوں بہن بھائیوں نے چیئرمین مجلس شوریٰ علی لاریجانی اور ان کے بھائی جوڈیشل کونسل کے سربراہ صاد لاریجانی سے کہا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے حقوق کی جنگ لڑنے کے بجائے قومی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی مجلس شوریٰ کے چیئرمین نے فاطمہ رفسنجانی کے خلاف جاری مقدمہ کے حوالے سے عدالت کو تحریری طور پر لکھا ہے انہیں سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی کے ریمارکس پر کوئی گلہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کی باتوں کی بنیاد پرعدالت میں کوئی کارروائی کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فاطمہ رفسنجانی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایرانی عدالتیں ناانصافی سے کام لے رہی ہیں، فریق ثانی علی لاری جانی کی جانب سے مقدمہ سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے باوجود عدالت اس کی موکلہ کو سزا دینے پر مُصر ہے حالانکہ مقدمہ کی دستاویزات میں لاریجانی کا لکھا گیا وہ خط بھی شامل ہے جس میں انہوں نے واضح کردیا ہے کہ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ رفسنجانی خاندان کے خلاف یہ کوئی پہلا مقدمہ نہیں بلکہ گذشتہ برس بھی ایران کی ایک عدالت نے فاطمہ رفسنجانی کی ایک ہمشیرہ فائزہ رفسنجانی کو بھی صدر محمود احمدی نژاد کی پالیسیوں پر تنقید کی پاداش میں چھ ماہ جیل بھجوانے کا حکم دیا تھا۔