.

تیونس: نامزد وزیر اعظم نئی کابینہ بنانے میں ناکام

کابینہ میں قابل وزراء شامل ہیں، اتفاق رائے کا منتظر ہوں: مہدی جمعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے نامزد وزیر اعظم مہدی جمعہ مقررہ وقت میں نئی کابینہ کی تشکیل میں ناکام رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ نئے وزراء پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

مہدی جمعہ نے اپنی کابینہ میں شامل کیے جانے والے وزراء کی فہرست ہفتے کے روز صدر منصف مرزوقی کو پیش کرنا تھی لیکن اس کے بجائے انھوں نے کہا ہے:''میں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ کابینہ پر اتفاق رائے ہوسکے''۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں نے تو اپنے طور پر کابینہ کے ارکان کی فہرست تیار کر لی ہے،اس میں بہت قابل وزراء شامل ہیں لیکن ملک کی سلامتی ،سماجی اوراقتصادی صورت حال کے پیش نظر کابینہ پر اتفاق رائے ضروری ہے کیونکہ مجھے ایک مرتبہ پھر کابینہ کی تشکیل کے لیے کہا جاسکتا ہے یا ایسا ہی کوئی اور مطالبہ کیا جاسکتا ہے''۔

تیونس کی دستورساز اسمبلی میں نئے آئین پر آج اتوار کو رائے شماری متوقع ہے اور اسمبلی منگل کو نئی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ دے گی۔اس نے گذشتہ جمعرات کو سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے تین سال کے بعد ملک کے نئے آئین کی تمام دفعات کی شق وار منظوری دے دی تھی۔

تیونس کی سابق حکمراں اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ اور سیکولر جماعتوں کے درمیان اسلام کی قانون سازی کے مآخذ کے طور پر حیثیت کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے تھے جس کی وجہ سے نئے آئین کی تیاری اور پھر منظوری میں تاخیر ہوئی ہے۔

النہضہ کے منتخب وزیر اعظم علی العریض حزب اختلاف کے ساتھ طے پائے معاہدے کے تحت اسی ماہ کے آغاز میں مستعفی ہوگئے تھے۔علی العریض کی جگہ اب نامزد وزیراعظم مہدی جمعہ کی قیادت میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل مجوزہ نئی کابینہ اسی سال نئے آئین اورنئے قوانین کے تحت ملک میں پارلیمانی انتخابات کرائے گی۔

نامزد وزیراعظم مہدی جمعہ نے آیندہ انتخابات کے شفاف انداز میں انعقاد کو یقینی بنانے اور ملک کو بحران سے باہر نکالنے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنی نامزدگی کے بعد کہہ چکے ہیں کہ وہ شفاف اور قابل اعتبار انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار حالات پیدا کریں گے اور ملکی معیشت کو بہتر بنائیں گے۔انھوں نے کہا کہ وہ سکیورٹی اداروں اور فوج سمیت انتظامیہ کی غیر جانبداری کو یقینی بنائیں گے۔

اکاون سالہ مہدی جمعہ پیشے کے اعتبار سے انجینیر ہیں۔ ان کے سیاسی کیرئیر کی ابتدا گذشتہ سال مارچ ہی میں ہوئی تھی اور انھیں النہضہ کی قیادت میں مخلوط حکومت میں وزیر صنعت بنایا گیا تھا۔النہضہ اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے گذشتہ ماہ انھیں مجوزہ عبوری حکومت کا سربراہ نامزد کیا تھا جس کے بعد صدر منصف مرزوقی نے انھیں 25 جنوری تک اپنی کابینہ بنانے کی دعوت دی تھی۔