.

مصری سفارت کاروں کے اغواء کاروں کا "ابوعبیدہ" کی رہائی کا مطالبہ

"العربیہ" کا یرغمال مصری سفارت کاروں سے ٹیلیفونک رابطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں گذشتہ روز مصری سفارت کاروں کے اغواء کاروں نے اغواء کی اس واردات کو مصرمیں اپنے ایک انقلابی رہ نما الشیخ شعبان ھدیہ المعروف الشیخ ابو عبیدہ کی گرفتاری کا بدلہ قرار دیا ہے۔ اغواء کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مصری حکومت اپنے سفارت کاروں کو زندہ و سلامت واپس دیکھنا چاہتی ہے تو وہ جمعہ کے روز یرغمال بنائے گئے الشیخ ابوعبیدہ کو فوری طور پر رہا کر دے۔

خیال رہے کہ لیبیا کی ایک انقلابی تنظیم کے سربراہ الشیخ ابوعبیدہ کو جمعہ کے روز مصر کے ساحلی شہر اسکندریہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

اغواء کاروں کے ترجمان نے "العربیہ" نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم لیبیا کے انقلابی ہیں۔ جب تک ہمارے رہ نما الشیخ ابوعبیدہ کو رہا کرکے لیبیا نہیں بھیج دیا جاتا اس وقت تک مصری سفارت کاروں اور دوسرے اہلکاروں کو بھی رہا نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے ہمارا مصری حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ الشیخ ابوعبیدہ کو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر رہا کر کے طرابلس روانہ کردے۔"

العربیہ نے ٹیلیفون پر مصر کے ایک مغوی سفارت کار سے بھی بات کی۔ مغوی سفارت کار نے بھی اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بحران کے حل کے لیے اغواء کاروں کے مطالبات پر فوری طورپرعمل درآمد کرے اور ہماری زندگیاں بچائے۔ مغوی سفارت کار کا کہنا تھا کہ انہیں نقاب پوش افراد نے ان کی رہائش گاہوں سے یرغمال بنانے کے بعد نامعلوم مقامات پر منتقل کیا ہے، جہاں وہ سخت مشکل میں۔ اس لیے ہم طرابلس اور قاہرہ حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں باغیوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ان کے مطالبات تسلیم کریں۔

خیال رہے کہ لیبیا میں متعین مصر کے کلچرل، انتظامی اورتجارتی اتاشیوں سمیت چھ افراد کو نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا تھا۔ ان کے اغواء کی خبر منظرعام پر آنے کے کچھ ہی دیر بعد طرابلس حکومت کے ایک ذرائع نے اطلاع دی تھی مغویوں کو رہا کرا لیا گیا ہے تاہم یہ خبر درست نہ تھی۔ بعد ازاں طرابلس حکومت کے ایک دوسرے ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جا سکا ہے۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدرعبد ربہ العاطی نے بتایا کہ طرابلس میں اغواء ہونے والے انتظامی اتاشی نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ مغوی سفارت کار کا کہنا ہے کہ اغواء کاروں نے ان کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا ہے تاہم انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے اغواء کاروں کے مطالبات پرغور کا بھی مطالبہ کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں متعین مصری سفیر محمد ابو بکر بہ خیریت ہیں۔ ان کے اغواء کیے جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ تاہم ان کے دیگرساتھیوں کو ان کی رہائش گاہوں سے اٹھایا گیا ہے۔

ادھر لیبیا میں متعین مصر کے ملٹری اتاچی اشرف محمد ابراہیم مرسی اپنے دس سفارت کار ساتھیوں کے ہمراہ وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ سفارتی عملے کی واپسی سفارت کاروں اور عملے کے دیگر تین اہلکاروں کے اغواء کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

مصر میں لیبی باغیوں کی گرفتاری

لیبیا میں مصری سفارت کاروں کے اغواء کی واردات کو جمعہ کے روز اسکندریہ میں لیبیا کی ایک مسلح انقلابی تنظیم کے سربراہ الشیخ محمد شعبان ھدیہ المعروف الشیخ ابوعبیدہ کی گرفتاری کا ردعمل بتایا جا رہا ہے۔ مصری پولیس نے جمعہ کو چھاپہ مار کر"لیبی انقلابی فورم" کے سربراہ الشیخ عبیدہ کو حراست میں لے لیا تھا۔

لیبیا کے ایک باغی جنگجو نے یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الشیخ ابوعبیدہ کی گرفتاری بلا جواز ہے۔ وہ مصری حکام کو مطلوب بھی نہیں تھے اور نہ ہی مصرکے اندرونی معاملات میں ان کی کوئی مداخلت رہی ہے۔ اس لیے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا جائے۔

ادھر لیبیا کی پارلیمنٹ نے بھی الشیخ ابوعبیدہ کی مصری پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیبی پارلیمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصری حکومت وضاحت کرے کہ آیا اس نے الشیخ ابوعبیدہ کو کن اسباب پرحراست میں لیا ہے۔
یاد رہے کہ لیبیا میں جس تنظیم نے مصری سفارت کاروں کو یرغمال بنایا ہے۔ دو ماہ قبل لیبی وزیراعظم علی زیدان کو یرغمال بنائے جانے کا الزام بھی اسی تنظیم پرعائد کیا گیا تھا۔