.

امریکا عراق کو 24 اپاچی ہیلی کاپٹر فروخت کرے گا

محکمہ دفاع پینٹاگان نے کانگریس کو سودے سے مطلع کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق کو چار ارب اسی کروڑ ڈالرز مالیت کے معاہدے کے تحت چوبیس اپاچی لڑاکا ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے کانگریس کو فیصلے سے مطلع کردیا ہے۔

عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت نے امریکا سے مغربی صوبے الانبار میں القاعدہ کے جنگجوؤں سے لڑائی کے لیے اسلحے اور انٹیلی جنس کی مدد طلب کی ہے۔تاہم فوری طور پر واضح نہیں کہ امریکی کانگریس عراق کے لیے اسلحے کے پیکج کی منظوری دے دے گی۔

امریکی کانگریس پینٹاگان کی جانب سے عراق کو اسلحے کی فروخت کے معاملے پر آیندہ پندرہ روز میں اعتراضات کرسکتی ہے۔اس اسلحے میں اپاچی ہیلی کاپٹروں کے علاوہ 480 ہیلی فائر میزائل اور متعلقہ راڈار اور نیوی گیشن سسٹمز بھی شامل ہوں گے۔

پینٹاگان نے کانگریس کو عراقی ہوابازوں کی تربیت کے لیے الگ سے چھے اپاچی ہیلی کاپٹر دینے کے حوالے سے بھی مطلع کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس دفاعی سودے سے امریکا کے تزویراتی مفادات کو تقویت ملے گی اور عراق خود کو دہشت گردوں اور روایتی خطرات سے بچا سکے گا۔

بعض ارکان کانگریس نے اس بنا پرعراق کو مزید اسلحےکی فروخت کی مخالفت کی ہے کہ وہ شامی رجیم کی مدد کے لیے ایران کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔انھیں یہ بھی تشویش لاحق ہے عراقی حکومت اس امریکی اسلحے کو القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں کے علاوہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بھی استعمال کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ عراق میں القاعدہ سے وابستہ گروپ ریاست اسلامی اور اس کے حامی سنی جنگجوؤں نے صوبے الانبار کے بڑے شہروں رمادی اور فلوجہ پر گذشتہ ماہ سے قبضہ کررکھا ہے اور عراقی سکیورٹی فورسز القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔نوری المالکی نے امریکا سے القاعدہ کے خلاف جنگ میں مالی اور اسلحی مدد دینے کا مطالبہ کیا تھا۔