.

ایردوآن کا دورہ تہران، ترکی اور ایران کے باہمی تعلقات کا ایک نیا باب

دورے کا مقصد انقرہ اور تہران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اشتراک عمل میں بہتری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان نے ایرانی دارالحکومت تہران میں حکام کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ ایردوآن نے اس سے قبل 2012 ء میں ایران کا دورہ کیا تھا۔

تہران حکومتی اہلکاروں سے ان کی ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کے مابین سیاسی اور اقتصادی اشتراک عمل میں تیزی اور مضبوطی لانے کے موضوع پر بات چیت کرنا ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل بنیادوں پر اعلیٰ سطحی مشاورت کے ایک معاہدے پر تہران اور انقرہ کی جانب سے دستخط کی امید بھی کی جا رہی ہے۔

ترکی کے ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی اس نئی کوشش کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے تہران پر لگی پابندیوں میں نرمی کے فیصلے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جب سے ایران اور خاص طور سے مغربی طاقتوں کے مابین تعلقات میں کسی حد تک بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تب سے ترکی ایک بار پھر ایران سے تیل اور گیس کی برآمدات کی بحالی کی امید کرتے ہوئے تہران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ کی کوشش کر رہا ہے۔ ترکی چند برسوں پہلے تک تیل اور گیس کی اپنی درآمدات کا نصف حصہ ایران سے حاصل کرتا تھا، تاہم امریکا کے دباؤ میں انقرہ نے اس میں واضح کمی کر دی تھی۔

گذشتہ قریب تین برسوں سے جاری شام کے بحران نے ترکی اور ایران کے تعلقات کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ انقرہ شامی اپوزیشن کی معاونت کر رہا ہے جبکہ تہران دمشق میں بشار الاسد حکومت کا دیرینہ حلیف ہے۔ اُدھر ہمسایہ ملک عراق کی صورتحال بھی ایران اور ترکی کے تعلقات پر بہت زیادہ اثر انداز ہوئی ہے۔ ایردوان حکومت کی عراق کے شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کے ساتھ جھگڑے رہے ہیں، جو ایران کے ایک قریبی ساتھی ہیں۔

چند سالوں کے دوران ترکی نے اس خطے کی داخلی سیاست میں باہر باہر سے اپنی چالیں چلی ہیں۔ انقرہ نے اخوان المسلمون جیسے گروپوں کی پشت پناہی کی اور اس وجہ سے چند علاقائی طاقتوں نے اس پر اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں مصری صدر مرسی کی برطرفی کے بعد سے ترکی قاہرہ کی نئی حکومت کے ساتھ تعاون سے گریز کر رہا ہے۔

مذکورہ صورتحال پیدا ہونے کے بعد ترکی پورے خطے میں سیاسی اعتبار سے کافی الگ تھلگ ہو گیا ہے۔ یہاں تک ہوا کہ ترکی، جو خود کو مشرق وسطیٰ کی ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت سمجھتا ہے، کا اس علاقے کے چند اہم ترین ممالک میں سفیر تک نہیں رہا۔ مصر، اسرائیل اور شام میں ترکی کا کوئی سفیر تعینات نہیں ہے۔ خود ترک میڈیا میں اس بارے میں انقرہ حکومت پر سخت تنقید سامنے آئی۔

ان حالات کے پیش نظر ترکی نے اپنے ہسمائے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ترک وزیر خارجہ داؤد اوگلو گزشتہ مہینوں کے دوران عراق، ایران، آرمینیا اور یونان کے دورے کر چُکے ہیں۔