.

سوڈان: مسلح گروپوں اور سیاسی جماعتوں کو قومی مکالمے کی دعوت

ملکی آئین کی حدود میں ہونے والے مذاکرات مسائل کیلیے سر جوڑنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر نے تمام سیاسی جماعتوں اور مسلح گروپوں سے کہا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال اور چیلنجوں سے نمٹنے کیلیے باہم مل بیٹھ کر گفتگو کی جائے تاکہ حالات میں بہتری لائی جا سکے، تاہم انہوں نے اس موقع پر آئینی امور میں اصلاحات کی ایسی کوئی بات نہیں کی ہے جیسا کہ ان کی جماعت کے سینئیر رہنما نے پیش گوئی کر رکھی تھی۔

صدر عمر البشیر جن کا ملک 1997 سے امریک اور پابندیوں کا نشانہ چلا آ رہا ہے ان دنوں تیل سے حاصل ہونے والی اس آمدنی سے نبرد آزما ہیں جو ملکی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ معاشی مشکلات کے ماحول میں سادگی کی پالیسی اور دیگر اخراجات میں کی جانے والی کٹوتیوں کی حکمت عمل اختیار کر رکھی ہے کہ ان کے ملک کے آئل فیلڈ جنوبی سوڈان کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔

صدر نے پچھلے سال ستمبر میں اس بحرانی صورت سے نکلنے کیلیے اقدامات کیے کہ دارالحکومت کی گلیوں میں ہونے والے احتجاج کے باعث یہ ضروری ہو گیا تھا۔ ان کے الفاظ تھے''ہم ایک وسیع البنیاد مکالمے کیلیے دعوت دے رہے ہیں تاکہ تمام سیاسی اور اسلحہ اٹھانے والی جماعتیں شامل ہوں۔ یہ قومی مکالمہ ملکی دستور کی حدود میں ہو گا۔''

واضح رہے اس سے پہلے سوڈانی میڈیا اس دعوت مکالمہ کے حوالے سے صدر کے قوم سے خطاب کا پچھلے کئی دنوں سے انتظار کر رہا تھا، اس سلسلے میں کئی اخبارات نے مضامین بھی لکھے۔

امریکی کی جانب سے 1997 سے نافذ پابندیوں کی صورت میں یہ ضروری ہو چکا ہے۔ امریکی پابندیاں ان الزامات کے تحت تھیں کہ سوڈان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔