.

معزول صدر کی شیشے کے"ساؤنڈ پروف" قفس میں عدالت میں پیشی

اقدام عدالت کے دوران ماحول پرسکون رکھنے کے لیے کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکام بالخصوص قاہرہ پولیس آڈیٹوریم نے معزول صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کی عدالت میں پیشی کے لیے سیکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ معزول صدر کے خلاف جنوری 2011ء کے انقلاب کے دوران اخوانی کارکنوں کی مدد سے جیل توڑ کر فرار ہونے کے مقدمہ کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم سابق صدر کو شیشے کے ایک ساؤنڈ پروف پنجرے میں رکھا جائے گا تاکہ کیس کی سماعت کے دوران کسی قسم کی گڑ بڑ نہ ہو۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وادی نطرون جیل توڑنے کے کیس کی سماعت آج [منگل] اٹھائیس جنوری کو ہو رہی ہے۔ ملک کی مخدوش سیکیورٹی صورتحال کے تناظرمیں ملزمان کی عدالت میں پیشی کے حوالے سے متضاد اطلاعات آتی رہی ہیں۔ بعض اخبارات نے عدالت کے احاطے میں ایک شیشے کے قفس نما کمرے کی تصاویر شائع کی ہیں۔ اخبار"الوطن" میں شائع ہونے والی شیشے کے پنجرے کی تصاویر کے ساتھ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی اوران کے ساتھیوں کوعدالت میں پیشی کے دوران اسی پنجرے میں رکھا جائے گا۔ شیشے سے بنایا گیا یہ کمرہ ساؤنڈ پروف ہے جس میں باہر سے کسی کی آواز سنائی نہیں دے گی۔

اخبار"الیوم السابع" کے مطابق ملزمان کی عدالت میں پیشی کے دوران گڑ بڑ پھیلانے کے خطرات موجود ہیں۔ خود ملزمان بھی عدالت کے اندر کسی قسم کا اشتعال پیدا کر سکتے ہیں۔ انہیں اشتعال پھیلانے اور شور شرابے سے منع کرنے کے لیے شیشے کا ایک کیبن تیار کیا گیا ہے جس میں سابق صدرمحمد مرسی اورمقدمہ کے دیگر شریک ملزمان کو رکھا جائے گا۔ اس پنجرہ نما کمرے سے سابق صدر محمد مرسی مائیکروفون کی مدد سے ججوں کے ساتھ بات کرسکیں گے۔ ان کی آواز کو باہرسے ایک ریمورٹ کنٹرول کی مدد سے کنٹرول کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ وادی نطرون جیل توڑنے کے الزام میں مصر کی عدالت میں 130 افراد پر مقدمہ درج ہے۔ ان میں اخوان المسلمون کے علاوہ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔ تاہم حماس اور حزب اللہ کے ارکان گرفتار نہیں کیے جا سکے ہیں۔