.

یوکرائن احتجاجی مرکز "آزادی چوک" میں کھمبے سے لٹکی لاش برآمد

اپوزیشن حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرائن کی وزارت داخلہ کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ اپوزیشن کے احتجاج کا مرکز رہنے والے شہر"کیف" کے آزادی چوک میں ایک کھمبے سے لٹکی ایک شخص کی لاش ملی ہے، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ خود کشی کا واقعہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور ہاتھ ہے؟

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ آزادی چوک میں "کرسمس ٹری" کے ساتھ ایک 55 سالہ شخص کی لاش لٹکی ہوئی تھی جس کے گلے میں پھندا ڈالا گیا تھا۔

بیان کے مطابق پھانسی لگے شخص کے جسم پرتشدد کا کوئی نشان نہیں۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس کا تعلق مغربی شہرفولنی سے ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ واقعہ خود کشی معلوم ہوتا ہے۔

"کرسمس ٹری" یوکرائن کی زیر حراست خاتون اپوزیشن رہ نما یولیا ٹیمو چینکو کے پوسٹروں سے لدا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

خیال رہے کہ "کیف" شہر گذشتہ کئی ہفتوں سے یوکرائنی اپوزیشن کے احتجاج کا مرکز رہا ہے۔ اپوزیشن کے سیکڑوں کارکنوں نے آزادی چوک میں حکومت کےخلاف دھرنا دیے رکھا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادی ظاہر کردی ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں مگر ہم حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے صبر کا امتحان نہ لے۔ احتجاجی کارکنوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ ہم حکومت کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے ایک موقع اور دے رہے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یوکرائن کی وزارت داخلہ نے اپوزیشن احتجاج کا راستہ روکنے کے لیے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی دھمکی دی ہے۔