.

تیونس میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے عالمی امداد کی اپیل

دستور ساز اسمبلی میں مہدی جمعہ کی قیادت میں نئی کابینہ پر اعتماد کا ووٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے نئے وزیراعظم مہدی جمعہ نے ملک میں مکمل جمہوریت کے قیام کے لیے عالمی برادری سے مالی امداد کی اپیل کی ہے۔

مہدی جمعہ نے منگل کو قومی دستور ساز اسمبلی میں اپنی نئی کابینہ پر اعتماد کے ووٹ کے موقع پر خطاب میں کہا کہ''تیونس کے دوستوں اور عالمی اداروں کو جمہوری انتقال اقتدار کے اس حساس مرحلے میں ہماری مالی مدد کرنی چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس مرحلے میں بعض اقتصادی اصلاحات اور مالی ذرائع کی ضرورت ہے''۔ مہدی جمعہ نے اپنی کابینہ میں بین الاقوامی اداروں میں تجربے کی حامل شخصیات اور ٹیکنو کریٹس کو شامل کیا ہے۔انھوں نے ماہر معیشت اور افریقی ترقیاتی بنک میں تجربے کے حامل حکیم بن حمودہ کو وزیرخزانہ اور اقوام متحدہ کے سابق عہدے دار مونجی حامدی کو وزیرخارجہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے تیونس کو قرضے دینے کے لیے زرتلافی ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں تا کہ اس کے بجٹ خسارے میں کمی واقع ہو اور اس کی معیشت کو سنبھالا مل سکے۔

تیونس کے بجٹ کے لیے زیادہ تر رقوم یورپ سے آنے والے سیاحوں سے حاصل ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ بیرون ممالک میں مقیم تیونسیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر بھی اس کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔اب عالمی اداروں میں تجربے کی حامل شخصیات کی کابینہ میں شمولیت سے اس توقع کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں سے بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے رقوم حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔

تیونس کی دستور ساز اسمبلی آج نئی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ دے رہی ہے۔اس نے اتوار کو ملک کے نئے آئین کی کثرت رائے سے حتمی منظوری دی تھی۔مہدی جمعہ کی قیادت میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی کابینہ اسی سال نئے آئین اورنئے قوانین کے تحت ملک میں پارلیمانی انتخابات کرائے گی جس کے ساتھ ہی تیونس میں گذشتہ تین سال سے جمہوریت کی مکمل بحالی کے لیے جاری سفر مکمل ہوجائے گا۔

تیونس شمالی افریقہ کے دو دوسرے ممالک لیبیا اور مصر سے اس لحاظ سے بازی لے گیا ہے کہ اس کی اسمبلی نے نئے آئین کی منظوری دے دی ہے حالانکہ ان تینوں ممالک میں 2011ء میں چند ماہ کے وقفے سے ہی عرب بہاریہ تحریکیں اور انقلابات برپا ہوئے تھے۔لیبیا میں تو بد امنی کا دور دورہ ہے اور سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے باغی جنگجو اب حکومت کے لیے دردسر بنے ہوئے ہیں۔مصر میں مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی نے ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو جولائی 2013ء میں برطرف کردیا تھا اور اب وہ خود صدر بننے کے خواہاں ہیں۔