.

امریکی کانگریس: شامی باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری

ہلکے ہتھیار شامی باغیوں کو گذشتہ ایک برس سے مل رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی میڈیا کے مطابق کانگریس کے ایک حالیہ بند کمرہ اجلاس میں شامی باغیوں کی نمائندہ فوج"جیش الحر" کو ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں امریکی اور یورپی سیکیورٹی حکام کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس نوعیت کا اسلحہ شامی باغیوں کو پچھلے ایک سال سے بیرون ملک سے مل رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرجنگ باغیوں کو امریکی ساختہ اسلحہ پچھلے ایک سال سے مل رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے گذشتہ برس شامی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کی منظوری دی تھی۔ شامی باغیوں کے لیے ممنوعہ قرار دیے گئے اسلحہ میں ٹینک شکن میزائل بھی شامل تھے۔ تاہم بعد ازاں باغیوں کو ہلکے ہھتیاروں کی فراہمی کی اجازت دے دی گئی تھی۔ ان میں ٹینک شکن میزائل شامل نہیں تھے۔ کانگریس نے اپنے ایک حالیہ خفیہ اجلاس میں درمیانی صلاحیت کے جنگی ہتھیاروں کی فراہمی کی اجازت دی ہے تاہم اس اسلحہ میں ایئر کرافٹ گنیں اور طیارہ شکن میزائل شامل نہیں ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کانگریس نے شامی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کی منظوری کب دی ہے۔ تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے گذشتہ دسمبر کے آخرمیں کانگریس کے کچھ بند کمرہ اجلاسوں میں دفاعی اخراجات بارے بحث ہوئی تھی۔ انہیں اجلاسوں کے دوران جیش الحر کو ہلکے اور درمیانے ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے امریکی کانگریس کے شامی باغیوں کے بارے میں سابقہ موقف میں تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے کیونکہ کانگریس کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ موقف سامنے آ چکا ہے کہ شامی باغیوں کو فراہم کردہ اسلحہ شدت پسند تنظیموں کے ہاتھ لگ سکتا ہے جو امریکا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔