.

ڈرون پالیسی تبدیل، گوانتانامو جیل ختم کرینگے: صدر اوباما

جنیواٹو سےمایوسی، ایران کی دہشتگردی کیلیے مدد پر نظر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر اوباما نے اپنے سٹیٹ آف یونین کے سالانہ خطاب میں دنیا کے بعض ملکوں میں جاری ڈرون حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کا واضح اشارہ دیا ہے اور بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتا نامو بے کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے فوجیوں اور سویلین کی غیر معمولی خدمات اور اپنی زندگیوں کو قربان کرنے اور خطرے میں ڈالنے کی وجہ سے امریکا آج زیادہ محفوظ ہے۔ امریکا صرف انٹیلی جنس اور فوج کا استعمال نہیں کرنا چاہتے بلکہ اپنے آئین کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے اپنے آن آدرشوں کو حاصل کرنا ہے جو ہمارا آئین کہتا ہے تاکہ ہم پوری دنیا کیلیے ایک مثال بن سکیں۔

امریکی صدر اوباما نے اپنے لیے ملک کے اندر قبولیت اور ہر دلعزیزی کے گرتے ہوئے گراف اور دنیا میں امریکی ساکھ کیلیے درپیش چیلنجوں کے پیش نظر امریکا کی اندرونی کامیابیوں اور بیرونی دنیا کیلیے ''خوشگوار ترغیبات'' کا اعلان کیا ہے۔ اس خطاب کے موقع پر حاضرین نے ان کی بار بار ستائش کی اور تالیاں پیٹیں۔ صدر اوباما نے کہا اس کے لیے میں نے بڑی احتیاط کیساتھ ڈرونز کے استعمال پر تحدید لگائی ہے، ہم اس طرح زیادہ محفوظ نہیں ہو سکتے اگر دنیا کے لوگ سمجھیں کہ ہم ان کے ملکوں میں مضمرات کی پروا کیے بغیر ڈرون چلاتے ہیں۔''

صدر اوباما کا کہنا تھا جب انہوں نے صدارتی منصب سنبھالا تو عراق اور افغانستان میں امریکا کے ایک لاکھ اسی ہزار فوجی موجود تھے۔ آج عراق سے تمام امریکی فوجی واپس آ چکے ہیں، جبکہ افغانستان سے بھی ساٹھ ہزار امریکی فوجی واپس بلائے جا چکے ہیں۔ افغانستان اپنی حفاظت کیلیے خود سرگرم ہو اور امریکی فورسز اب امدادی کردار کی طرف مائل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ''اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہم افغانستان میں اپنا مشن رواں سال کے اواخر تک مکمل کر لیں گے اور اس کے ساتھ ہی امریکا کی طویل ترین جنگ اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔''

امریکی صدر نے کہا '' 2014 کے بعد ہم متحدہ افغانستان کی حمایت کریں گے اور اپنے مستقبل کی ذمہ داری اس کے اپنے سر ہو گی، اگر افغانستان نے امریکا کے ساتھ سکیورٹی کے حوالے سے معاہدہ کر لیا تو امریکی فوج محدود تعداد میں افغانستان میں موجود رہ سکیں گی ، جہاں ہم اپنے نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغان فورسز کی تربیت اور دہشتگردی کے حوالے سے القاعدہ کی باقیات کے خلاف اپنا مشن محدود پیمانے پر جاری رکھیں گے۔'' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ''افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت میں قدرے تبدیلی ہو گی لیکن ایک چیز اسی طرح رہے گی کہ ہم دہشت گردوں کو اپنے ملک کے خلاف کارروائیوں کی اجازت نہیں دیں گے، حقیقت یہ ہے کہ خطرات رہیں گے اگرچہ ہم نے القاعدہ کی قیادت کو شکست کا راستہ دکھا دیا ہے۔''

اوباما نے اپنی قوم کو مسقبل کے چیلنجوں کے حوالے سے خبردار کیا '' اب جو خطرہ سامنے آ رہا ہے وہ القاعدہ سے منسلک گروپوں کا ہے جنہوں نے مختلف ملکوں میں جڑ پکر لی ہے۔ خصوصا یمن ، صومالیہ، عراق، مالی وغیرہ میں ہمیں اپنے پارٹنرز کے ساتھ ان نیٹ ورکس کو اکھاڑنا ہو گا۔ شام میں ہم اپوزیشن کو دہشت گردی کے ایجنڈے کیخلاف مدد دیں گے۔ جبکہ امریکا میں ہم اپنے دفاع کو مضبوط بنائیں گے جبکہ سائبر حملوں سے نمٹنے کیلیے صلاحیت کو مضبوط کریں گے۔ ہمیں بجٹ اصلاحات کرتے ہوئے اپنے یونیفارم میں مردوں اور خواتین کی ضروریات کا خیال رکھنا ہو گا تاکہ وہ مستقبل کے اپنے مشنوں کی تکمیل کر سکیں۔ ہمیں چوکس رہنا ہو گا۔''

انہوں نے وضاحت کے ساتھ کہا '' لیکن میرا پختہ یقین ہے کہ ہماری قیادت اور سلامتی صرف ایک غیر معمولی فوج کی مرہون منت نہیں ہو سکتی ہے۔ اسی لیے کمانڈر انچیف ہونے کے ناطے جب بھی امریکی عوام کے تحفظ کیلیے ضروری ہوا میں نے اپنے اختیارات کا استعمال کیا۔ جب تک میں صدر ہوں ایسا کرنے سے میں آئندہ بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا۔ لیکن میں اپنی افواج کو کسی غیر ضروری نقصان اور پریشانی میں نہیں پھینکوں گا۔ نہ ہی امریکی بیٹوں اور بیٹیوں کو کسی نہ ختم ہونے والے دلدلی تصادم میں جھونکوں گا۔''

انہوں نے ضروی اور غیرضروری جنگوں میں فرق کی راہ اختیار کرتے ہوئے کہا ''ہمیں وہ جنگیں ضرور لڑنا ہوں گی جن کا لڑا جانا ضروری ہو گا۔ نہ کہ وہ جنگیں جو دہشت گرد ہمارے لیے پسند کریں گے۔'' امریکی جنگوں کے طویل تجربے کی بنیاد پر انہوں نے کہا '' طویل مدتی جنگیں ہماری فوجی اور دفاعی صلاحیت کو نچوڑنے والی ہوں گی اور ممکن ہے کہ ان کے نتیجے میں انتہا پسندی مضبوط ہو، اس لیے اگر ہم جارحانہ انداز میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کیخلاف زیادہ نشان زد انداز میں کوششیں کریں گے اور اپنے غیر ملکی پارٹنرز کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔''

صدر اوباما نے کہا اس کے لیے میں نے بڑی احتیاط کیساتھ ڈرونز کے استعمال پر تحدید لگائی ہے، ہم اس طرح زیادہ محفوظ نہیں ہو سکتے اگر دنیا کے لوگ سمجھیں کہ ہم ان کے ملکوں میں مضمرات کی پروا کیے بغیر ڈرون چلاتے ہیں۔'' امریکی صدر نے کہا '' ہر وقت حالت جنگ میں رہنے سے بچنے کیلیے کانگریس کے ساتھ کام کرتے ہوئے میں نگرانی کے امریکی نظام میں اصلاحات کروں گا کیونکہ جاسوسی سے متعلق کام کی کامیابی کیلیے عوامی اعتماد ضروری ہے۔ ملک کے اندر اور باہر عام لوگوں کی نجی زندگی کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔''

افغان جنگ کے خاتمے کے نئے منظر نامے کے بارے میں انہوں نے کہا '' اس سال کانگریس اہم قیدیوں کی ٹرانسفر پر عاید پابندیاں ختم کریں گے اور گوانتا نامو بے کو ختم کر دیا جائے گا۔'' انہوں نے اپنی قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا'' ہم دہشت گردی کا خاتمہ صرف انٹیلی جنس اور فوج کے استعمال سے نہیں کرنا چاہتے بلکہ اپنے آین کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے اپنے آن آدرشوں کو حاصل کرنا ہے جو ہمارا آئین کہتا ہے تاکہ ہم پوری دنیا کیلیے ایک مثال بن سکیں۔''

اوباما نے کہا '' جیسا کہ آپ دنیا میں بکھرے ہوئے اپنی سلامتی کو درپیش پیچیدہ خطرات کو جانتے ہیں ان سے نمٹنے کیلیے ہماری قیادت اپنی تمام تو طاقت مشمول اصولی سفارتکاری کو بروئے کار لاتی ہے۔ امریکی سفارتکاری کے ذریعے 50 سے زائد سے ملکوں کو جوہری اسلحے سے روکنا تاکہ یہ مہلک ہتھیار غلط ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔ اسی چیز نے ہمیں سرد جنگ کے زمانے کے ذخائر کم کرنے کا حوصلہ دیا۔ ''

اہل امریکا کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے اپنی کامیابی کا احوال بیان کرتے ہوئے اوباما کا کہنا تھا '' امریکی عسکری طاقت کی پشت پر موجودگی کی وجہ سے سفارتکاری کامیاب رہی اور اب کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی ممکن ہو رہی ہے، ہم اسی انداز سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اہل شام کے مستقبل کیلیے کام کریں گے، ایسا مستقبل جو آمریت ، خوف اور دہشت گردی سے سے پاک ہو۔''

اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے ایشو پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے یونین میں شامل ریستوں کے نمائندوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا '' ہم نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مشکل امن عمل شروع کرایا ہے، اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کا وقار اور آزاد ریاست ممکن ہو گی جبکہ اسرائیل کو دیر پا امن میسر آئے گا۔'' امریکی صدر نے یہودیوں کے اطمینان کیلیے یہودی ریاست کے اس اطمینان کا حوالہ دیا کہ اسے ہمیشہ جانتی ہے کہ امریکا ہمیشہ اس کا طرفدار رہے گا۔

صدر اوباما نے سٹیٹ آف یونین کے اپنے سالانہ خطاب کے دوران ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والے معاہدے کا بھی ذکر کیا ۔ ان کا کہنا تھا '' دباو کے ساتھ لیس امریکی سفارتکاری کے باعث ایران نے کئی دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ اپنا جوہری پروگرام روک دیا ہے اور اس سے متعلق حصوں کو رول بیک کر دیا ہے اور جب ہم یہاں جمع ہیں تو ایران اپنے یورین کے ذخائر کو ختم کر رہا ہے۔'' ایرانی جوہری پروگرام کی عدیم المثال قسم کی مانیٹرنگ کے بعد عالمی معائنہ کار بتا رہے ہیں کہ ایران جوہری بم نہیں بنا رہا ہے۔''

شام کے مستقل کے حوالے سے جاری جنیواٹو کے بارے میں موقف تھا '' یہ ایک مشکل امر ہے ممکن ہے یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکیں، تاہم حزب اللہ ایسے دہشت گرد جو ہمارے اتحادیوں کیلیے خطرہ ہیں ان کیلیے ایرانی امداد کے بارے میں ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھے ہوئے ہیں،۔ہم اقوام کے باہمی عدم بھروسے سے بھی آگاہ ہیں۔'' اوباما نے ماضی میں صدر کینیڈی اور رونالڈ ریگن کے سوویت یونین کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کیا اور کہا آج ایک مضبوط اور پر اعتماد امریکا سوویت یونین سے کمزوروں کے ساتھ کیوں مذاکرات نہیں کر سکتا ہے۔