.

متحدہ عرب امارات کا شمالی امریکا سے گیس کی درآمد پر غور

امریکا اور کینیڈا میں گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا جائزہ لے رہے ہیں:وزیرتیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات شمالی امریکا سے قدرتی گیس درآمد کرنے کے امکان پر غور کررہا ہے۔

امریکا اور کینیڈا پہاڑی چٹانی علاقے سے بھاری مقدار میں گیس نکال رہے ہیں جس کے پیش نظر براعظم شمالی امریکا میں گیس کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور غیرملکی خریدار بھی اب ان سے گیس درآمد کرنے کے امکانات پر غور کررہے ہیں یا بات چیت کررہے ہیں۔

حال ہی میں امریکا کے گیس پیداگیروں اور چین ،جاپان،تائیوان ،اسپین اور چلی سے تعلق رکھنے والے خریداروں کے درمیان اربوں ڈالرز مالیت کے قریباً ایک درجن طویل المیعاد معاہدے طے پائے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرتیل سہیل بن محمد المزروعی نے لندن میں منعقدہ ایک توانائی کانفرنس کے موقع پر کہا کہ ''ہم بھی امریکا اور کینیڈا میں ان رجحانات کے مطابق گیس کے شعبے مِیں سرمایہ کاری پر غور کررہے ہیں اور اس میں سے کچھ گیس واپس لائیں گے''۔

متحدہ عرب امارات تیل پیدا اور برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا رکن ہے۔گذشتہ چند سال کے دوران یو اے ای میں گیس کی طلب میں اچانک نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کی پیداواری شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے پیش نظر وہ بھی گیس کے درآمد کنندہ ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔

یو اے ای کی ابوظبی قومی توانائی کمپنی اس سے پہلے کینیڈا کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کرچکی ہے لیکن ابھی تک اس نے شمالی امریکا سے گیس برآمد کرنے کے منصوبوں میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔

یو اے ای نے گذشتہ سال فجیرہ میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا درآمدی ٹرمینل تعمیر کرنے کے لیے ٹھیکا دیا تھا۔وہ اس سے پہلے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پائپ لائن کے ذریعے قطر سے گیس درآمد کررہا ہے۔