.

جنوبی سوڈان نے 7 باغیوں کو کینیا کے حوالے کردیا

باغیوں کے مطالبے پر سات کی رہائی،چار سابق عہدے دار مسلسل زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی سوڈان نے گذشتہ ماہ صدر سلواکیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں پکڑے گئے گیارہ میں سے سات باغی لیڈروں کو رہا کرکے کینیا کے حوالے کردیا ہے۔

ان ساتوں لیڈروں نےکینیا کے صدر یوہورو کینیاٹا کے ساتھ دارالحکومت نیروبی میں بدھ کو نیوزکانفرنس کی ہے۔وہ بظاہر صحت مند نظر آرہے تھے۔جنوبی سوڈان کے سابق وزیرانصاف جان لک جوک نے اس گروپ کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم کوئی اچھا محسوس نہیں کررہے ہیں ،ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں آزادی کے تھوڑے عرصے کے بعد سے ہی بحران جاری ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنے صدر(سلفاکیر) کو اپنے دشمن کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے''۔واضح رہے کہ تمام قیدیوں کی رہائی باغیوں کا سب سے بڑا مطالبہ تھا۔باغیوں کے چار لیڈر جنوبی سوڈان ہی میں قید ہیں اور ان کے خلاف صدر سلفا کیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

انھوں نے 15 دسمبر کو دارالحکومت جوبا میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف ہتھیار اٹھالیے تھے اور حکومت کے بہ قول انھوں نے طاقت کے استعمال کے ذریعے صدر سلفاکیر کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔سلفاکیر نے اپنے برطرف نائب صدر ریک ماشر اور دوسرے سابق عہدے داروں پر اپنی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کا الزام عاید کیا ہے۔

جنوبی سوڈان کی فورسز نے جوبا میں جھڑپوں کے بعد گیارہ سابق عہدے داروں کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ ریک ماشر وہاں سے فرار ہوجانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔اس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔

افریقی ممالک کی کوششوں کے نتیجے میں جنوبی سوڈان کی متحارب جنگجو قوتوں کے درمیان گذشتہ جمعہ سے جنگ بندی جاری ہے۔تاہم بعض علاقوں میں ان کے درمیان ابھی تک لڑائِی جاری ہے۔گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ کے دوران سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں ملک میں بدترین بحران پیدا ہوگیا تھا اور قریباً آٹھ لاکھ افراد اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

جنوبی سوڈان کے وزیرانصاف پالینو وانا ولا کا کہنا ہے کہ اس وقت زیرحراست چارافراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا اور ماشر سمیت تین افراد اگر پکڑے گئے تو انھیں انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم کینیا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ زیرحراست باقی چار افراد کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ان افراد میں جنوبی سوڈان کی حکمراں جماعت کے سابق سیکریٹری جنرل پاگان آموم،قومی سلامتی کے سابق وزیر اویائی ڈینگ اجل ،امریکا میں سابق سفیر عزقیل گیٹلوتھ اور سابق نائب وزیردفاع ماجک ڈی آگوٹ شامل ہیں۔