.

برونائی کی سابق ملکہ کے جواہرات چوری کیس کی از سر نو سماعت

"مریم عزیز نے جوا ہارنے کے بعد ہیرے خود ہی بیچ ڈالے تھے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوب مشرقی ایشیائی ریاست برونائی دارالسلام کے فرمانروا سلطان حسن بلقیہ معزالدین کی ایک سابق اہلیہ کے جواہرات چوری سے متعلق کیس کی برطانیہ میں دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا ہے۔

سنہ 2012ء کو سابق خاتون اول مریم عزیز نے الزام عائد کیا کہ اس کی ایک سنگاپورین محافظہ فاطمہ لیم نے اس کی سیف میں موجود اصلی جواہرات نکالنے کے بعد ان کی جگہ ان سے ملتے جُلتے جعلی جوہرات رکھ دیے تھے۔ چوری کی یہ واردات 09۔ 2008ء کے دورمیان کی بتائی جاتی ہے۔ مریم عزیز نے برطانوی عدالت کو بتایا کہ اس کی ذاتی محافظہ نے اس کے نو ملین ڈالر مالیت کے ہیرے، جواہرات چوری کیے جبکہ ان کی جگہ وہ جعلی ہیرے چھوڑے جن کی کل مالیت پانچ سو ڈالر سے بھی کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چوری ہونے والے جوہرات میں 12.71 قیراط کی انگوٹھی کا ایک نیلے رنگ کا نگینہ، 27.1 قیراط کا زرد ہیرا اور ہیروں کی ایک لڑی جس کی مالیت پانچ ملین ڈالرتھی چوری کی گئی۔

دوسری جانب ملزمہ فاطمہ لیم کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے مالکن کے ہیرے جواہرات چوری نہیں کیے۔ اس پر چوری کا الزام قطعی بے بنیاد ہے، تاہم جن ہیروں کے چوری ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ مریم عزیز نے خود ہی لندن میں جوئے بازی کے مقابلوں میں جوا ہارنے کے بعد قرض اتارنے کےلیے فروخت کر دیے تھے۔

خیال رہے کہ 57 سالہ سابق خاتون اول مریم عزیز کو برونائی کے فرمانروا سلطان حسن بلقیہ نے شادی کے اکیس سال بعد طلاق دے دی تھی۔ مریم سے حسن بلقیہ کے چار بیٹے بھی ہیں۔ سلطان حسن بلقیہ سے شادی سے قبل مریم ایک فضائی کمپنی میں ایئر ہوسٹس کے طور ملازم تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مریم عزیزکے برطانوی وکیل میکس میلن نے برطانوی سپریم کورٹ کو بتایا کہ ان کی مؤکلہ کی ذاتی محافظہ فاطمہ لیم برونائی پولیس کی تفیتش کے دوران ہیرے چوری کے جرم کا اعتراف کرچکی ہے۔

تاہم مریم عزیزکے وکیل کے دعوے کے برعکس خود فاطمہ کا کہنا ہے کہ برونائی پولیس نے اسے تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرنے پرمجبورکیا تھا لیکن اس نے ہیرے چوری نہیں کیے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ سابق خاتون اول نے اپنی دو انگشتریاں جنیوا کے ایک تاجرکو فروخت کی تھیں۔اب وہ انہیں واپس لینا چاہتی ہیں۔ لیکن انہوں نے کیس میں غیرضروری طورپر اسے بھی الجھا رکھا ہے۔

برطانوی اخبار"ڈیلی میل" نے ہیرے چوری میں مبینہ طور پر ملوث قرار دی گئی فاطمہ لیم کے بارے میں مزید معلومات بھی فراہم کی ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ فاطمہ بیڈمنٹن کی ایک ٹریننر کے طور پر مریم عزیز کے گھر میں آئی تھی جو بعد ازاں ترقی کرتے ہوئے ان کی ذاتی محافظہ بن گئی۔ فاطمہ سابق خاتون اول کے لندن، برونائی اور سینگاپور میں متعدد دوروں میں ساتھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جوہرات چوری ہونے کا انکشاف اس وقت ہوا جب 2009ء میں مریم عزیزبے اپنی ایک لے پالک بیٹی عفیفہ عبداللہ سے کہا کہ وہ سیف سے جوہرات نکال کے اسے دے۔ عفیفہ نے الماری کھولی تومعلوم ہوا کہ کچھ جواہرات چوری ہوچکے ہیں اوران کی جگہ کچھ جعلی ہیرے پڑے ہوئے ہیں۔ پہلے اس واقعے کی تحقیقات برونائی پولیس نے کیں۔ پولیس کے مطابق فاطمہ لیم نے ہیرے جواہرات برطانیہ میں یہ کہہ کر فروخت کیے گئے تھے کہ یہ مریم عزیز کی والدہ کو تحفے میں دے رکھے ہیں۔