.

ارب پتی کی"آوارہ" بیٹی سے شادی پر 130 ملین ڈالر کا 'انعام'

"والد کی خواہش بجا مگر ہم جنس پرستی ترک نہیں کرسکتی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہانگ کانگ کی ایک ارب پتی کاروباری شخصیت سیسیل چاؤ نے کہا ہے کہ جو شخص اس کی "ہم جنس پرست اور آوارہ منش" بیٹی سے شادی رچائے گا اسے اس کے عوض 130 ملین امریکی ڈالر کے مساوی رقم دی جائے گی۔

اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہم جنس پرستی کے لئے مشہور دوشیزہ گیگی کے والد سیسیل چاؤ اپنی بیٹی کے مستقبل کے حوالے سے سخت فکرمند ہیں۔ انہوں نے 2012ء میں بیٹی سے شادی کرنے والے شخص کے لیے کئی ملین ڈالر کی رقم کی پیشکش کی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے اس رقم میں مزید دو مرتبہ اضافہ کرکے اپنی پیشکش دہرائی ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق گیگی اپنے والد کی خواہش پر شادی سے انکاری ہے۔ جب پہلی مرتبہ اس کے والد نے شادی کے عوض اپنے ہونے والے داماد کو بھاری رقم دینے کی پیشکش کی تو اس کے بعد پوری دنیا سے 20 ہزار افراد نے شادی کے لیے چاؤ سے رابطہ کیا تھا لیکن "ہونہار" صاحبزادی نے وہ تمام رشتے ٹھکرا دیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق گیگی چاؤ ایک خیراتی ادارے کی بھی سربراہ ہیں، لیکن اس کا زیادہ تر وقت ہم جنس پرستی کی سرگرمیوں میں گذرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ "میں اپنے والد کی خواہش پر ہر گز برہم نہیں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میرے والد مجھے خوش رکھنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میں ایک ہم جنس پرست ہوں اور جنس مخالف سے شادی نہیں کرنا چاہتی"۔

جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کے والد آپ کی شادی کے بدلے اتنی بھاری رقم دینا چاہتے ہیں تو اس کا جواب تھا کہ "یہ پدرانہ شفقت اور والدین کی اولاد سے محبت کی ایک عمدہ مثال ہے، میں بھی اپنے والد سے محبت کرتی ہوں لیکن میں ان کی خواہش کے مطابق کسی مرد سے شادی نہیں کرسکتی"۔ چینی اخبار کی رپورٹ کے مطابق گیگی چاؤ کے ایک دوست جو پچھلے نو سال سے اس کے ساتھ ہیں بھی گیگی کے شادی سے انکار پر سخت برہم ہیں۔ انہوں نے بھی گیگی کو کئی بار شادی کا مشورہ دیا ہے لیکن اسے خلاف فطرت زندگی زیادہ پسند ہے۔