.

فرانس: سات سو شہری شام میں لڑنے کیلیے پہنچ گئے

دو نوعمر مسلمان طلبہ کے خلاف مقدمے کی شروعات، اکثر جنگجو غیر مسلم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے شہری دو سکول طالب علموں کے خلاف جہادی کیمپ جوائن کرنے اور جہاد کی غرض سے شام جانے کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ دونوں طالبعلموں کی عمریں بالترتیب 15 اور 16 سال ہے ۔

دونوں طلبہ کے خلاف مجرمانہ سازش کے تحت مقدمے کا چلنا فرانس کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کیونکہ اس عمر کے بچوں پر اس نوعیت کا مقدمہ چلانے کی روایت نہیں ہے۔ دونوں بچوں پر الزام ہے کہ انہوں ترکی کے راستے شامی سرحد عبور کر کے ایک جہادی ٹریننگ کیمپ میں شرکت کی تھی۔

واضح رہے دیگر مغربی ممالک کی طرح فرانس سے بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ نان سٹیٹ ایکٹرز کی صورت شام کی بشار رجیم کے خلاف لڑنے کیلیے جا چکے ہیں اور باغیوں کی مدد کر رہے ہیں۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے ایسے جنگجووں کی تعداد700 کے قریب ہے جو بشار رجیم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ان سات سو فرانسیسی جنگجووں میں سے اب تک تقریبا دیڑھ سو جنگجو اسلام قبول کر چکے ہیں، کمسن فرانسیسی جنگجووں کی تعداد لگ بھگ ہے۔

جن میں سے ان دو پر الزام ہے کہ یہ دونوں چھ جنوری کو پہلے فرانس سے ترکی گئے اور وہاں سے شامی سرحد عبور کر گئے جس کا بظاہر مقصد بشار رجیم کیخلاف ان ہزاروں جنگجوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لینا تھا۔

دونوں بچوں کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ یہ بچے دہشت گردی کیلیے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کیلیے شام گئے تھے اس لیے ان کے یہ مقدمہ بنانا درست نہیں ہے۔

واضح رہے برطانیہ، جرمنی، فرانس اور بعض دیگر ملک اپنے ہاں سے شام میں لڑنے کیلیے جانے والوں کے بارے میں پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ جبکہ تین برسوں سے شام میں بشار رجیم کے مظالم کیخلاف غیر ملکیوں کا شام جانا ایک اہم رجحان ہے۔ جس میں یورپی ممالک کے شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔