.

یمن: قبائلیوں اور حوثی باغیوں میں جھڑپیں، 60 افراد ہلاک

جنوبی صوبہ حضر موت میں القاعدہ جنگجوؤں کے حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شمال میں مسلح قبائلیوں اور حکومت مخالف حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم ساٹھ افراد مارے گئے ہیں جبکہ ملک کے جنوب میں القاعدہ جنگجوؤں کے حملے میں اٹھارہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت صنعا سے صرف چالیس کلومیٹر شمال میں واقع علاقے ارہاب میں حکومت نواز حاشد قبائلیوں اور حوثی باغیوں کے درمیان جمعہ کو تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں اور قبائلیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے متعدد علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حوثی باغی اب شمالی صوبے صعدہ اور دوسرے دوردراز شمالی پہاڑی علاقوں سے صنعا کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔صنعا اور صعدہ کے درمیان واقع علاقے میں ان کے ہم فرقہ زیدی اہل تشیع کی اکثریت آباد ہے اور ان کی اس چڑھائی کا بڑا مقصد خودمختاری کے حصول کے لیے اپنی تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔

لیکن حوثی باغیوں کو حکومت نواز زیدی قبائل کے علاوہ راسخ العقیدہ اہل سنت کی جانب سے سخت مزاحمت درپیش ہے۔اہل سنت نے اہل تشیع کے اثرورسوخ کو کم کرنے کے لیے ملک کے شمالی علاقوں میں اپنے متعدد مدارس قائم کیے ہیں اور ان دونوں مذہبی گروہوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

قبل ازیں یمن کے جنوب مشرقی صوبے حضرموت میں القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں نے ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کر کے اٹھارہ فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ایک سکیورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے جمعہ کو حضر موت کے شہر شبام میں ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا تھا۔اس وقت فوجی دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔حملہ آوروں کے بارے میں شُبہ ہے کہ وہ القاعدہ سے تعلق رکھتے تھے۔

اس سکیورٹی عہدے دار کے مطابق جھڑپ میں بعض حملہ آور بھی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں لیکن جنگجو انھیں اپنے ساتھ اٹھا لے جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا نے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ بتائی ہے اور اسے دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی قراردیا ہے۔

حضرموت جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں کا مضبوط گڑھ ہے۔اس صوبے میں دسمبر کے وسط سے مقامی قبائلیوں اور یمنی فوج کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔قبائلی ایک چیک پوائنٹ پر اپنے سردار سید بن ہبریش اور ان کے محافظوں کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے یمن کی مرکزی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

یمن کی موجودہ حکومت سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ملک کے جنوب مشرقی اور وسطی صوبوں میں شورش پسند قبائلیوں ،جنوب میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور شمال میں حوثی شیعہ باغیوں سے نبرد آزما ہے۔