.

خامنہ ای کے بھائی کا اصلاح پسند رہ نماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ

'انقلاب کے لیے قربانیاں دینے والوں کوانتقامی سیاست کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے بھائی اور سرکردہ عالم دین ھادی خامنہ ای نے اصلاح پسند رہ نماؤں کی مسلسل نظربندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن سیاسی کارکنوں نے انقلاب کے لیے قربانیاں دیں، انہیں انتقامی سیاست کا سامنا ہے۔ اصلاح پسند سیاسی لیڈر مہدی کروبی، حسین موسوی اور ان کی اہلیہ زھرا رھنورد کی جبری نظربندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ھادی خامنہ ای نے ان خیالات کا اظہار اصلاح پسند طلباء کے ایک وفد سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے لیے تحریک چلانے والے رہ نماؤں کے ساتھ بد سلوکی کی جا رہی ہے۔ نام نہاد امن وامان کی وجوہات کی آڑ میں ان کی مسلسل نظربندی ظالمانہ ہے، حکومت کو انہیں فوری طورپر رہا کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ ان دنوں ایران میں سنہ1979ء کے اسلامی انقلاب کی سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔ ھادی خامنہ نےاسی انقلاب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے ملک میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے قربانیاں دی تھیں آج انہیں حکومت کی جانب سے جبروتشدد کا سامنا ہے۔ میں حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مہدی مروبی، میرحسین موسوی اور زہرا رھنورد کو فوری طور پر رہا کرے۔

خیال رہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بھائی ھادی خامنہ ای اصلاح پسند اہل تشیع علماء کی ایک تنظیم کے سربراہ بھی ہیں۔ وہ ماضی میں "حیات نو" کے نام سے ایک اخبار بھی نکالتے رہے ہیں لیکن حکومت نے ملک میں اشتعال پھیلانے کے الزامات کے تحت اخبار پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جبری نظربندی ایک مصیبت اور تمام سیاسی رہ نماؤں کو فوری طور پر اس ظلم سے نجات ملنی چاہیے اور انہیں ہرقسم کی سیاسی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے ھادی خامنہ ای نے کہا کہ ہم یہ شکوہ کرتے ہیں کہ بیرون ملک سے ہمارے ہاں سرمایہ کار نہیں آتے ہیں، جب ہماری داخلی سیاست میں اس حد تک گھٹن پائی جا رہی ہوکہ موسی اور کروبی جیسے اعتدال پسند رہ نما بھی جبری نظربند ہوں تو باہر سے سرمایہ کار کیسے ایران آئیں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2009ء میں ایران میں ہوئے صدارتی انتخابات کے بعد اصلاح پسند اپوزیشن رہ نماؤں نے صدارتی انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہوئے سبز انقلاب کی تحریک شروع کی تھی۔ اپوزیشن کی تحریک دباتے ہوئے اپوزیشن کے نمائندہ سیاسی رہ نماؤں مہدی کروبی، میرحسین موسوی اور ہزاروں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ان میں سے بعض سیاسی کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے تاہم ایک بڑی تعداد اب بھی نظربند یا جیلوں میں قید ہے۔