.

یمنی دارالحکومت صنعا سے جرمن شہری اغوا

یرغمالی کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں:وزیرخارجہ ابوبکر الکربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے ایک شہری کو یمن کے دارالحکومت صنعا سے اغوا کر لیا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق جرمن شہری ساٹھ کے پیٹے میں ہے اوراس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کو جمعہ کے روز صنعا سے اغوا کیا گیا تھا اور اب ملک کے مشرق میں واقع قبائلی علاقے میں منتقل کردیا گیا ہے۔جرمن شہری یمنی حکام سے اپنے گرفتار دو بیٹوں کی رہائی کے سلسلہ میں بات چیت کے لیے آیا تھا۔

یمنی وزیرخارجہ ابوبکر الکربی نے صنعا میں متعین ایک جرمن سفارت کار کو بتایا ہے کہ ''وزارت خارجہ اور سکیورٹی فورسز یرغمالی کی محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں کررہے ہیں''۔

واضح رہے کہ یمن میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ایک نفع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرچکی ہیں اور اغوا کار بالعموم تاوان وصول کرکے یا پھر حکومت سے اپنے مطالبات منوا کر یرغمالیوں کو رہا کردیتے ہیں۔گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران یمنی قبائلیوں نے سیکڑوں افراد کو اغوا کیا ہے اور انھیں حکومت کے ساتھ اپنے تنازعات چکانے کے لیے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

اسپین میں متعین یمنی سفیر مصطفیٰ نعمان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کی زیادہ تر وارداتیں سیاسی وجوہ کے بجائے نفع رسانی کے لیے کی جاتی ہیں۔یہ روزگار کا پُرکشش ذریعہ ہیں۔جب اغوا کے بعد تاوان میں بھاری رقوم مل جاتی ہیں تو پھر گینگ ایسا کیوں نہیں کریں گے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یرغمالی کا تعلق مغرب ،امریکا یا برطانیہ سے ہو تو پھر اغواکاروں کا کوئی سیاسی ایجنڈا ہوسکتا ہے لیکن بالعموم اس طرح کی وارداتوں کا بنیادی محرک رقوم کا حصول ہی ہوتا ہے۔