.

اسرائیل کی فلوٹیلا حملے میں جانی نقصان کے معاوضے کی پیشکش

ترکی نے 20 ملین کی اسرائیلی پیش کش کے بدلے 30 ملین کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے زیر محاصرہ لاکھوں فلسطینیوں کی انسانی بنیادوں پر مدد کیلیے آنے والے ترکی کے جہاز فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے میں ہونے والے نقصان کا معاوضہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

فلسطینیوں کیلیے خوراک، کپڑے اور ادویات لے کر آنے والے خواتین و حضرات پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کرکے متعدد افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا تھا۔ تاہم ابھی ترکی کی طرف سے اس پیش کش کا جواب نہیں دیا گیا۔

واضح رہے مئی 2010 فلوٹیلا پر ہونے والے حملے کو تین سال گذرنے کے بعد اسرائیل اور ترکی کے درمیان مارچ 2013 میں معاوضہ دینے پر بات چیت شروع ہوئی تھی۔ اسرائیل نے اس حوالے سے 20 ملین ڈالر ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔

اس سے پہلے اسرائیل نے باضابطہ طور پر ترکی سے معافی مانگی تھی۔ اس کے باوجود ان مذکرات میں طویل عرصے کیلیے تعطل رہا اور دسمبر 2013 میں دوبارہ شروع ہوئے۔ ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق ترکی نے جانی نقصان کا معاوضہ تیس ملین ڈالر ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو یہ رقم براہ راست ادا نہیں کی جائے گی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس سلسلے میں کسی تبصرے سے گریز کیا ہے۔