.

یمنی دارالحکومت راکٹ حملوں اور بم دھماکوں سے لرز اُٹھا

فرانسیسی سفارت خانے پر"ہاون" راکٹ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:


یمن کے دارالحکومت صنعاء میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب کئی مقامات پر راکٹ گرنے اور زور دار بم دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

"العربیہ" کے نامہ نگار کے مطابق رات گئے فرانسیسی سفارت خانےکی عمارت کے قریب "ہاون" راکٹ گرنے کی اطلاعات ہیں۔ ادھر سفارت خانے سے کچھ فاصلے پر"ڈپلومیٹک کالونی" میںبارود سے بھری ایک کارکا بھی دھماکہ ہوا ہے۔ راکٹ حملوں میں یمنی وزارت دفاع کے ہیڈکواٹرز اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ تاہم تمام واقعات میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

صنعاء میں "العربیہ" کے نامہ نگار نے پولیس ذرائع کےحوالے سے بتایا ہے کہ فرانسیسی سفارت خانے کے قریب رات گئے کئی 'ہاون' راکٹ گرے۔ ان میں ایک راکٹ سفارت خانے کی بیرونی کنکریٹ کی حفاظتی دیوار کو لگا ہے، جس کے نتیجے میں دیوار کو نقصان پہنچا۔ راکٹ حملوں سے چندے قبل ریڈ زون میں قائم سفارتی کالونی کی ایک مرکزی شاہراہ پر کھڑی کار میں بھی دھماکہ ہوا۔ تاہم ان دونوں واقعات میں کسی قسم کے جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر صنعاء کے دارالحکومت کے مغرب میں شاہراہ الزبیری میں چار راکٹ گرے ہیں۔ ان میں سے دو راکٹ وزارتِ دفاع کے ہیڈ کواٹر اور دو سابق صدرعلی عبداللہ صالح کی رہائش گاہ کے قریب گرے۔ راکٹ حملوں کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دی ہیں۔

درایں اثناء شمالی یمن کے شورش زدہ حوث شہرمیں حاشد قبیلے اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان خون ریز جھڑپیں مسلسل جاری ہیں۔ حوثیوں نے اتوار کے روزحوث شہر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرکے کئی عمارتوں اور مکانوں کو آگ لگا دی تھی۔ یمن کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ حاشد قبیلے کے کرنل ھاشم الاحمر نے حوثیوں کو شہر سے نکالنے کے لیے قبائلی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل اپنی قوت مجتمع کرنا شروع کر دی ہے۔ خیال رہے کہ حوثیوں نے گذشتہ روز الفخری کے مقام پر کرنل ھاشم کی رہائش گاہ کو دھماکوں سے تباہ کردیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق حوثی جنگجوؤں اور حاشد قبیلے کے درمیان لڑائی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ متحارب گروپ ایک دوسرے پر ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔ بعض مقامات پر توپخانے اور میزائل حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق حاشد قبیلے حوثیوں کو مار بھگانے کے لیے طاقت کا بھرپور استعمال کر رہا ہے لیکن باغی فی الحال الخمری کے مقام پر قابض ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حوثی جنگجوؤں نے حوث شہر میں سرکاری فوج کا ایک ٹینک اور کئی دیگر فوجی گاڑیاں نذرآتش کردی ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کا الخمری کے مقام پر قبضہ بدستور قائم ہے اور انہوں نے علاقے پر قبضے کے بعد حاشد قبیلے کے سردار الشیخ عبداللہ بن حسین الاحمر کی رہائش گاہ بھی نذر آتش کر دی ہے۔