.

تیونس:جھڑپ میں 4 مسلح جنگجو اور 1 پولیس اہلکار ہلاک

پولیس کی چھاپہ مار کاررروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونسی پولیس نے دارالحکومت تیونس میں مشتبہ اسلامی جنگجوؤں کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے جس کے دوران جھڑپ میں ایک اہلکار اور چار اسلامی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

تیونس کی وزارت داخلہ نے منگل کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ پولیس نے دارالحکومت کے شمالی علاقے رؤید میں مشتبہ جنگجوؤں کی گرفتاری کے لیے سوموار کی رات ایک مکان کا محاصرہ کیا تھا۔اس دوران پولیس ہلکاروں اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی عروئی نے بتایاہے کہ ''جنگجو جدید ہتھیاروں سے مسلح تھے،ان کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور دوسرا دھماکا خیز مواد برآمد ہوا ہے''۔تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ ان جنگجوؤں کا کس گروپ سے تعلق تھا۔

تیونس کے مختلف علاقوں میں سخت گیر اسلامی گروہ انصارالشریعہ سے تعلق رکھنے والے جنگجو سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار ہیں۔اس تنظیم کے سربراہ نے القاعدہ کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تھا اور امریکا نے انصارالشریعہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

واضح رہے کہ تیونس میں جنوری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی عوامی مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے جہادی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔گذشتہ سال کے دوران سکیورٹی فورسز پر خاص طور پرمسلح جنگجوؤں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

ان جنگجوؤں کے حملوں اور تشدد کے واقعات کے بعد تیونس میں ایک سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا۔ملک کی سیکولر حزب اختلاف نے اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں سابق حکومت پر انتہا پسند گروپوں پرقابو پانے میں ناکامی کا الزام عاید کیا تھا اور اس بحران کے نتیجے میں النہضہ کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

البتہ اس اعتدال پسند اسلامی جماعت اور حزب اختلاف کے درمیان عبوری دور کے لیے انتقال اقتدار کا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے پایا ہے اور ان کے درمیان مفاہمت کے بعد تیونس کی دستور ساز اسمبلی نے ملک کے نئے آئین کی منظوری دے دی تھی اور اب ملک میں قومی اتفاق رائے سے وزیراعظمم مہدی جمعہ کی قیادت میں ایک عبوری حکومت قائم ہوچکی ہے جو اسی سال عام انتخابات کرائے گی۔