.

میونخ کانفرنس میں ایرانی ۔ اسرائیلی عہدیداروں کا براہ راست آمنا سامنا

موشے یعلون جواد ظریف کی تقریر پر ہمہ تن گوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور اسرائیل کی باہمی دشمنی کے باعث دونوں ملکوں کے رہ نماؤں کے لیے ماضی میں کسی بھی عالمی فورم پر ایک دوسرے کو گوارا کرنا مشکل رہا ہے لیکن مخالفت کی یہ برف آہستہ آہستہ پگل رہی ہے۔

اس کا اندازہ حال ہی میں میونخ میں ہونے والے بین الاقوامی امن فورم کے موقع پر دونوں ملکوں کے رہ نماؤں کی موجودگی سے ہو رہا ہے۔ کانفرنس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف خطاب کر رہے ہیں۔ سامنے دائیں جانب اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون دکھائی دیتے ہیں۔ جواد ظریف نے جب تقریرشروع کی توغالب امکان تھا کہ موشے یعلون حسب معمول ہال سے نکل جائیں گے لیکن وہ نہ صرف ہاں بیٹھے رہے بلکہ نہایت اطیمان کے ساتھ جواد ظریف کی تقریر بھی سنتے رہے۔ خود جواد ظریف نے بھی اسرائیلی وزیر دفاع کی موجودگی پر کسی قسم کی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔

خیال رہے کہ ایرانی اور اسرائیلی عہدیداروں کی کسی ایک جگہ اکھٹے ہونے کی کئی اور مثالیں بھی موجود ہیں لیکن ان تمام حالتوں میں دونوں ملکوں کے رہ نماؤں نے اضطراری حالت میں ایک دوسرے کو برداشت کیا، لیکن یہاں کسی قسم کی مجبوری بھی نہ تھی۔ مثال کے طور پر پچھلے سال اردن میں ہونے والی جوہری کانفرنس میں ایرانی اور اسرائیلی عہدیدار بھی موجود تھے، تاہم ان کی موجودگی کی کوئی تصویر سامنے نہیں آسکی۔ تازہ تصویر بھی اسرائیل کے عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے فوٹوگرافر ارئیل ہیرمونی کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ اس نے کانفرنس ہال کی بالائی منزل سے یہ تصویر حاصل کر لی تھی، جس میں جواد ظریف تقریر کر رہے ہیں اور اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون اس پر ہمہ تن گوش ہیں۔

اسی طرح سابق ایرانی صدر محمد خاتمی اور اسرائیل کے سابق صدر موشے کتساؤ کی ایک دوسرے کے پہلو میں کھڑے ہونے ایک تصویر بھی عالمی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ تاہم یہ تصویر سنہ 2005ء میں پاپائے روم یوحنا پولس دوم کے جنازے کے موقع پرویٹکن میں لی گئی تھی جہاں آنجہانی یوحنا کی آخری رسومات میں اتفاقا دونوں سابق صدور ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے۔ البتہ یہ ایک کھلے میدان میں لی گئی تصویر تھی جسے اضطراری بھی کہا جا سکتا ہے لیکن میونخ امن کانفرنس کے موقع پرتصویر ایک بند کمرے کی ہے جہاں دونوں ملکوں کے سینیئر وزراء کو ایک دوسرے کے براہ راست آمنے سامنے دیکھا گیا۔