.

تیونس:شکری بالعید کا مبینہ قاتل پولیس کارروائی میں ہلاک

دارالحکومت میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 23 جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حزب اختلاف کی شخصیت شکری بالعید کا مبینہ قاتل پولیس کی چھاپہ مار کارروائی میں مارا گیا ہے۔اس کارروائی میں کل تئیس جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

تیونس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تیپ نے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر صفین سلیطی کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اس مبینہ قاتل کامل قضقاضی کی لاش کی شناخت کر لی گئی ہے۔تیونسی وزیرداخلہ لطفی بن جدو نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران پولیس کی اس کارروائی کی اطلاع دی ہے اور قضقاضی کے مرنے کی اطلاع دی ہے۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ پولیس کے ساتھ جھڑپ میں کل تئیس دہشت گرد عناصر مارے گئے ہیں۔یہ جھڑپ سوموار کی سہ پہر شروع ہوئی تھی اور منگل کی صبح تک جاری رہی تھی۔نیشنل گارڈ کے خصوصی دستوں نے دارالحکومت تیونس کے نواحی علاقے رؤید میں مسلح جنگجوؤں کی موجودگی کا پتا چلنے کے بعد مکان کا محاصرہ کر لیا تھا اور انھوں نے پہلے مکان میں موجود مشتبہ افراد کو خود کو حوالے کرنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور پولیس پر فائرنگ شروع کردی۔

عینی شاہدین کے مطابق مسلح جنگجو خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کررہے تھے۔جواب میں سکیورٹی فورسز نے بھی شدید فائرنگ کی اور پھر انھوں نے اپنے آپریشن کی فتح کا اعلان کردیا۔پولیس نے علاقے کی جانب جانے والے تمام راستے بند کردیے ہیں۔

واضح رہے کہ شکری بالعید کو 6 فروری 2013ء کو تیونس کے علاقے المنزہ میں ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔ان پر مبینہ طور پر قضقاضی نے فائرنگ کی تھی۔اس قاتل کا تعلق تیونس کے انتہا پسند گروپ انصار الشریعہ سے تھا۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی عروئی نے سرکاری خبررساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ ''کامل قضقاضی ،احمد رؤیسی اور عزالدین عبداللعوئی شکری بالعید کے قتل میں ملوث تھے اور انھوں نے اسلحہ اسمگلنگ کی ایک واردات بھی کی تھی۔اول الذکر کی شناخت اسلحہ کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی کار پر لگنے والے ہاتھ کے نشانات سے کی گئی تھی۔

شکری بالعید کی جمعرات کو پہلی برسی منائی جارہی ہے۔ان کے بعد جولائی میں حزب اختلاف کی ایک شخصیت محمد براہیمی کو بھی اسی انداز میں ان کے گھر کے باہرفائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ان دونوں کے قتل کا الزام انصارالشریعہ پر عاید کیا گیا تھا۔اس کے ردعمل میں حزب اختلاف نے تیونس کی حکمران اسلامی جماعت النہضہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کردیے تھے اور ملک سیاسی بحران سے دوچار ہوگیا تھا جو النہضہ کے اقتدار کے خاتمے پر منتج ہوا تھا اور اب تیونس میں اتفاق رائے سے ایک عبوری حکومت قائم ہوچکی ہے۔