.

مسلمان قرآن کے بعض حصوں سے لاتعلقی ظاہر کریں: گیرارڈ بیٹن

''مغربی ممالک نے مساجد کی اجازت دے کر سنگین غلطی کی ہے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی سیاسی جماعت یو کے انڈیپندنٹ پارٹی نے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں سے اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ وہ قرآن پاک کے بعض حصوں سے اظہار لا تعلقی کریں۔ برطانوی سیاسی جماعت کے رہنما نے مسلمانوں سے اس لا تعلقی کے اعلان پر دستخط کرنے کیلیے بھی کہا ہے۔

گیرارڈ بیٹن نے اس سے پہلے یہ مطالبہ 2006 میں کیا تھا، جسے اس نے اب پھر دہرایا ہے۔ گیرارڈ بیٹن کے مطابق ''مغربی ممالک نے مسلمانوں کو اپنے ہاں مساجد تعمیر کرنے کی اجازت دے کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اس اجازت کے نتیجے میں پورے مغرب کی سرزمین پر مساجد پھیل گئی ہیں۔''

اس کا کہنا ہے ''اگر یہ لوگ جدید خیالات کے حامل لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں تو اس میں کچھ غلطی ہے جس پر نظر ثانی ضروری ہے۔''

گیرارڈ بیٹن نے مزید کہا ''اگر وہ ان ایشوز پر اپنی رائے بدلنے کو تیار نہیں ہیں تو سوچنا یہ ہے کہ اس سے مسئلہ کس کیلیے ہو گا ہمارے لیے یا ان کیلیے ؟'' اس نے کہا مسلمانوں کو جہاد سے متعلقہ قرآنی حصوں سے اپنے آپ کو الگ کرنا ہو گا اور یہ کہنا چاہیے کہ یہ ناقابل عمل، غلط اور غیر اسلامی ہے۔''

گیرارڈ بیٹن کے ان خیالات کی لیبر پارٹی کے صادق خان نے مذمت کی ہے اور کہا ہے '' میں گیرارڈ بیٹن کے خیالات سے دہشت زدہ ہوا ہوں کہ وہ میرے اور میرے جیسے لاکھوں مسلمانوں کے عقیدے سے لا علم ہے ۔''

برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے رحمان چشتی نے بھی گیرارڈ بیٹن کے ان خیالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' بیٹن کو کسی ذمداری پر نہیں ہونا چاہیے۔ ''

واضح رہے 2010 میں بیٹن نے گارجین کو دیے گئے ایک ویڈیو انٹرویو میں مساجد کی تعمیر پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔