.

مصر میں صحافیوں کی رہائی کا امریکی مطالبہ

مصر میں آزادی اظہار پر قدغن قابل تشویش ہے، وائٹ ہاوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاوس نے مصر میں صحافیوں اور پروفیسر حضرات کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ایسی گرفتاریوں پر تشویش ہے اس لیے ان زیر حراست شخصیات کو ان کی وابستگیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے رہا کیا جائے اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا موقع دیا جائے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنے نے اس امر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان پر عاید کیے گئے الزامات واپس لیے جائیں.

امریکی ترجمان کے مطابق آزادی اظہار پر پابندیاں قابل تشویش ہیں ۔ ان لوگوں کی گرفتاری ان کے خیالات پر قدغن کے مترادف ہے۔

واضح رپے مصر میں پچھلے ہفتے پراسکیوٹر نے الجزیرہ کے ساتھ وابستہ 20 صحافیوں کے خلاف مقدمہ عدالت میں دائر کیا ہے۔ پراسیکیوٹر نے اس موقع پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی اور یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ لوگ اخبار نویس ہیں.

ان اخبار نویسوں کو 29 دسمبر کوقاہرہ کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا، اس سے پہلے ان کے دفاتر بند کیے گئے تھے۔

ان پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ ''ملزمان'' نے مسری سلامتی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے اور یہ لوگ بغیر اجازت کے کام کر رہے تھے۔

خیال رہے ان حراست میں لیے گئے صحافیوں میں پیٹر گریستے، محمد عادل فہمی، بہر محمود ایسے سینئیر صحافی شامل ہیں۔