.

ایران حتمی جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کو تیار

مغرب مخلص اور سنجیدہ ہوا تو حتمی سمجھوتا طے پا جائے گا:حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کو تیار ہے۔

انھوں نے یہ بات ایران کے دورے پر آئے ہوئے سویڈش وزیرخارجہ کارل بلڈٹ سے منگل کو ملاقات کے دوران کہی ہے۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے ان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''ہم بات چیت کے حتمی مرحلے کے لیے بالکل تیار ہیں اور اس کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں''۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ''اگر مغرب مخلص اور سنجیدہ ہے تو پھر سمجھوتا طے پانے کا امکان ہے''۔واضح رہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا نیا دور فروری کے تیسرے ہفتے میں شروع ہونے والا ہے۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر کو جوہری پروگرام پر قدغنوں سے متعلق چھے ماہ کے لیے عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر جنوری سے عمل درآمد کا آغاز ہوا ہے اور جولائی میں یہ ختم ہوجائے گا۔

اس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگائی ہیں اور اس کے بدلے میں اس پر عاید مغربی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے اور اس کو چھے ماہ کی مدت میں اس کی غیرمنجمد کی گئی چار ارب بیس کروڑ ڈالرز کی رقم اقساط کی شکل میں دی جائے گی۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے بھی سوموار کو برلن میں جرمنی کی خارجہ تعلقات کونسل کے خطاب کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ملک کا 20 جولائی تک چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔