.

ریلیوں کی کثرت سے امام مہدی کا جلد ظہور مُمکن ہے: ایرانی عالم دین

'ایران پر اقتصادی پابندیاں قرب امام مہدی کی علامت ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک سرکردہ عالم دین علامہ آیت اللہ علی سعیدی نے کہا ہے کہ احتجاجی ریلیوں اور جلسے جلوسوں کی کثرت سے امام مہدی موعود علیہ السلام کا جلد ظہور ممکن ہے۔ انہوں نے حکومتِ وقت اور عوامُ الناس سے اپیل کہ وہ زیادہ سے زیادہ ریلیوں کا اہتمام کریں۔ نیز مسئلہ فلسطین کی حمایت اور امریکا کے سامنے ڈٹ جائیں تاکہ امام مہدی ہماری مدد کے لیے ظاہر ہو جائیں۔

علامہ علی سعیدی نے ان خیالات کا اظہار جنوبی شہر 'بوشہر' میں ایک عوامی جلسے سے خطاب میں کیا۔ شیخ علی سعیدی نہ صرف ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب خاص ہیں بلکہ ان کا شمار پاسداران انقلاب کے متشدد اور قدامت پشند اہل تشیع علماء میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان کی بات کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے۔

پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ویب پورٹل "تسنیم" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آیت اللہ علی سعیدی نے ہفتے کے روز ایک جلسے سے خطاب میں امام مہدی موعود کے ظہور کے زمانے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امامُ العصر کے ظہور کے زمانے میں مظاہروں کی کثرت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام میں احتجاجی ریلیوں کی کثرت، امریکا کی مخالفت اور مسئلہ فلسطین کی حمایت کرکےامام مہدی کے ظہور کی راہ ہموا کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اہل تشیع مسلک بالخصوص اثنٰی عشری فرقے کے نزدیک امام مہدی موعود "غیبت کُبریٰ" میں ہیں۔ وہ 329ھ سے پردے میں ہیں لیکن وہ آخر کار ایک دن ضرور ظاہر ہوں گے اور اسلام کو پوری دنیا میں غالب کریں گے۔ اہل تشیع کے عقیدے کے مطابق امام مہدی ایک مرتبہ پہلے بھی 72 سال تک غائب رہے ہیں، جسے اہل تشیع غیبت صغریٰ کا نام دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ شیعہ عالم دین علامہ علی سعیدی اپنے متنازعہ خیالات بالخصوص امام مہدی کے حوالے سے پیشن گوئیاں کرنے میں بھی شہرت رکھتے ہیں۔ ایک سال قبل انہوں نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران پرعائد عالمی اقتصادی پابندیوں کو امام مہدی کے ظہور کی علامت قرار دیا تھا۔

امام مہدی کے ظہور سے متعلق گفتگو دوسرے شیعہ علماء میں بھی جاری رہتی ہے۔ علامہ علی سعیدی کے ایک نائب اور پاسداران انقلاب میں مرشد اعلیٰ کے ایک دوسرے مندوب عبداللہ حاجی صادقی نے مذہبی مرکز سمجھے جانے والے شہر قُم میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ "اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودہ حکومت کو امام مہدی کے ظہور اور اس کے استقبال کے لیے انتظامات تیز کرنے چاہئیں کیونکہ امام موصوف کسی بھی وقت منصہ شہود پر آ سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب طاقت کا گھمنڈ کرنے والے اسلام کی ھیبت سے خوف زدہ ہوں گے اور پورا عالم اسلام ایران کی عظمت سے مرعوب ہو جائے گا"۔ خیال رہے کہ ایران میں امریکا کے لیے طاقت پر گھمنڈ اور تکبر کرنے والے ملک کی اصطلاح عام استعمال کی جاتی ہے۔ اس نوعیت کی بیان بازی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایرانی اصلاح پسند صدر ڈاکٹر حسن روحانی سیاسی میدان میں امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی کوششیں کر رہے ہیں۔