.

الجزائرکے صدارتی انتخابات گمنام دوشیزہ کی ابدی شہرت کا باعث

سیلیا کے انکار کے باوجود میڈیا میں ان کے صدارتی امیدوار کے چرچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقا کے اہم عرب مسلمان ملک الجزائر کے صدارتی انتخابات سے متعلق گرما گرم خبریں اکثر ذرائع ابلاغ کا موضوع رہتی ہیں، مگرتازہ خبر قدرے مختلف نوعیت کی ہے۔

خبر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر آئندہ اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ایک گمنام اداکارہ سیلیا سعدی کے انتخابات میں حصہ لینے کے چرچے پوری شدو مد کے ساتھ جاری ہیں۔ سیلیا سعدی جو"گوری حسینہ اداکارہ" کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں نے متعدد مرتبہ وضاحت کی ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی ہیں اور نہ ہی ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ ہے۔ اکیس سالہ سیلیا الجیرین قبائل سے تعلق رکھتی ہے اور ان دنوں فرانس کے دالحکومت میں مقیم ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 17 اپریل 2014ء کے صدارتی انتخابات میں مجموعی طور پر100 سے زائد امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ ان میں لیبر پارٹی کی لویزہ حنون واحد خاتون امیدوار ہیں۔ دیگر تمام امیدوار مرد ہیں۔ تاہم یہ امرحیران کن ہے کہ سیلیا نے کہیں بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی بات نہیں کی۔ اس کے باوجود سماجی میڈیا پر اس کی تصاویر اور تذکرے موجودہ آمرانہ مزاج صدرعبدالعزیز بوتفلیقہ کے جانشین کے طورپر کیے جا رہے ہیں۔ مقامِ حیرت یہ ہے کہ یہ تذکرے محض سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ بات ایک قدم اور آگے بڑھ کر اخبارات تک جا پہنچی ہے۔ ایک اخبار نے سیلیا کے صدارتی انتخابات کی خبروں کے حوالے سے ایک خصوصی ایڈیشن بھی لکھ مارا ہے۔

سیلیا نے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے بارے میں متعدد مرتبہ وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا پراس کے صدارتی امیدوارکےطورپر جاری تبصرے جعلی ہیں۔ جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میرے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ آیا اس نوع کے حماقت آمیز تبصروں اور افواہوں کی کیا ضرورت ہے۔

اداکارہ سیلیا سعدی کی جانب سے متعدد مرتبہ وضاحتوں اور انکار کے باوجود سوشل میڈیا ان کو ایک صدارتی امیدوار ہی کے طورپر دکھا رہا ہے، جس پر سیلیا سخت پریشان بھی ہے۔ البتہ وہ بات سے خوش بھی ہے کہ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں اس کا نام جعلی طور پر شامل کرکے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اسے ابدی شہرت دلا دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سماجی میڈیا کوشائد سیلیا سعدی کے نام کا مغالطہ ہوا ہے، کیونکہ ان کے نام سے ملتا جلتا نام سماج پارٹی برائے ثقافت وجمہوریت کے صدارتی امیدوار سعید سعدی کا بھی ہے۔ عین ممکن ہے کسی نے غلطی سے سعید سعدی کو سیلیا سعدی لکھنے کے بعد انٹرنیٹ سے اس کی تصویراٹھائی ہو اور اسے صدارتی امیدوار کے طورپر پیش کر دیا گیا ہو۔

جب سے سیلیا کی جانب سے صدارتی انتخابات سے عدم تعلق کی خبریں سامنے آئی ہیں، عوام میں ان کے حوالے سے ہمدردیاں اور بڑھ گئی ہیں۔ عوام نے ان سے انتخابات میں حصہ لینے کے مطالبات شروع کردیے ہیں۔ سماجی میڈیا میں شہریوں کی جانب سے یہ یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں کہ سیلیا کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے اپنے حامیوں کی تعداد ظاہر کرنے کا مسئلہ ہو تو وہ ملک بھر سے اتنے لوگ اکھٹے کردیں گے جو سیلیا کے سپورٹ کے لیے کافی ہوں گے۔