ایرانی صدر کو شہریوں کوسردی میں کھڑا کرنے پر تنقید کا سامنا

غربت کا شکار ایرانیوں میں خوراک کی تقسیم کے دوران دھکم پیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر حسن روحانی کو حکومت کی جانب سے ملک کے غریب طبقات کے لیے شروع کی گئی خوراک کی مفت تقسیم کی ایک اسکیم پر سخت گیروں سمیت مختلف طبقات کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

مقامی خبررساں ایجنسیوں نے لوگوں کی ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں وہ حکومت کی جانب سے بٹنے والی مفت خوراک کی تقسیم کے دوران دھکم پیل کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہیں یا پھر وہ سخت ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں قطاروں میں کھڑے ہیں۔

ان تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد سخت گیروں نے صدر حسن روحانی کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر شہریوں کی بے توقیری اور ان کی عزت نفس مجروح کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

بعض لوگ مبینہ طور پر خوراک کی ٹوکریاں وصول کرنے کے لیے شدید سردی میں تین تین روز تک کھڑے رہے ہیں۔ایک ضعیف العمر شخص اسی انتظار میں اس جہان فانی سے کوچ کرگیا جس کے بعد صدر حسن روحانی پر تنقید کے نشتر تیز ہوچکے ہیں۔

ایران کے قدامت پسند حلقے پہلے ہی صدر حسن روحانی کے مغرب کے ساتھ چھے ماہ کی مدت کے لیے عبوری سمجھوتے پر نالاں تھے،اب ان کے پاس تنقید کا ایک اور ہتھیار ہاتھ آگیا ہے۔

سخت گیروں کے اخبار کیہان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے''منجمد کردینے والی سردی میں غریب لوگوں کی خوراک کے حصول کے لیے لمبی قطاروں کو دشمن کے میڈیا نے ایران کا سیاہ امیج دکھانے کے لیے استعمال کیا ہے''۔اخبار نے لکھا ہے کہ حسن روحانی کو اس پروگرام پر قوم سے معافی مانگنا چاہیے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں