اسرائیل میں جبری فوجی ملازمت کیخلاف قدامت پرستوں کا احتجاج

ہزاروں یہودیوں نے حکومتی پالیسی کیخلاف مظارے کیے، 30 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہزاروں مذہبی شدت پسند یہودی لازمی فوجی ملازمت کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ سکیورٹی فورسز کو انہیں منتشر کرنے کیلیے پانی پھینکنے والی بندوقیں استعمال کرنا پڑیں۔

سب سے اہم مظاہرہ یروشلم کی سڑکوں پر دیکھنے میں آیا جہاں پولیس حکام کے مطابق کم از کم تین ہزار کی تعداد میں قدامت پرست یہودی احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں سڑکیں بلاک کر دیں جس سے ٹریفک جام ہو گئِ۔

اس احتجاج کا دائرہ یروشلم کے مضافات میں بھی نظر آیا۔ ان مضافات میں تل ابیب کا قریبی علاقہ بنائی براک جنوبی شہر اشداد اور وسطی اسرائیل کے قصبات شامل تھے۔

واضح رہے قدامت پرست یہودی اسرائیل کی مجموعی آبادی کا دس فیصد سمجھے جاتے ہیں جو لازمی فوجی ملازمت کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جبکہ حکومت ان کے نوجوانوں کو بھی کم از کم تین برس فوجی ملازمت پر مجبور کرتی ہے۔

مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر'' سٹاپ الٹرا آرتھو ڈاکس ڈرافٹ '' کے الفاظ تحریر تھے۔ پلے کارڈز پر بائبل کی تعلیم کے خلاف بھی مطالبات درج تھے۔

اسرائیلی پولیس نے اس موقع پر 30 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ واضح مظاہرین نے پولیس پر پتھراو بھی کیا تھا۔

یہ احتجاج شروع ہونے کی ایک وجہ یہودی مذہبی مدارس کے لیے سرکاری فنڈز میں کمی کا حکومتی فیصلہ اور قدامت پسند یہودی نوجونوں کی گرفتاری کیلیے کیا گیا ریڈ بنا ہے۔

واضح رہے حکومتی ادراوں نے ایسے نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی جو جبری فوجی بھرتی کے قانون کے بھگوڑے تھے۔

اسرائیل نے اپنے ہاں ہر نوجوان کیلیے فوجی تربیت اور تین سال کی فوجی ملازمت لازمی قرار دے رکھی ہے جبکہ نوجون لڑکیوں کیلیے دوسال تک فوج میں ملازمت لازمی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں