خواتین کیمپس میں مرد طبی عملہ داخل نہ ہو سکنے پر طالبہ ہلاک

شاہ سعود یونیورسٹی، اندو ہناک واقعے پر پروفیسرز کا تحقیقت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہزاروں سعودی شہریوں نے ریاض یونیورسٹی کی طالبہ کے علاج میں تاخیر اور سخت قوانین کی وجہ سے موت واقع ہونے پر سوشل میڈیا پر سخت احتجاج کیا ہے۔

آمنہ باوزیر نامی طالبہ کو ہارٹ اٹیک ہوا لیکن پیرامیڈیکس میں شامل مردوں کو علاج کیلیے خواتین کے کیمپس میں داخلے کی اجازت نہ ہونے کے باعث طالبہ جان سے چلی گئی۔

سعودی اخبار عکاظ کے مطابق شاہ سعود یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹر نے ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی جو ایک بیمار طالبہ کی جان بچانے کیلیے کی جا رہی تھیں۔

تاہم یونیورسٹی کے ریکٹر بدران القمر نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خواتین کیمپس میں مردوں پر مشتمل پیرامیڈیکل سٹاف کو جانے سے روکا نہیں گیا تھا۔

بدران القمر کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ طالبہ کی زندگی بچانے کیلیے جو کچھ کر سکتی تھی اس نے کیا لیکن بدقسمتی سے طالبہ کی جان نہ بچائی جا سکی۔

العمر نے طالبہ کے والد سے ہونے والی بات چیت شئیر کرتے ہوئے کہا طالبہ کے والد کا کہنا تھا کہ ''میری بیٹی کو عارضہ قلب کا سامنا تھا۔'' اس کے انتقال کے بعد سعودی عرب میں سوشل میڈیا میں اس وقعے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

بعض سعودی شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ سعودی عرب کے جنسی امتیاز کے حوالے سے سخت گیر قوانین اس طالبہ کے انتقال کا باعث بنے ہیں۔

واضح رہے سعودی عرب میں اسلام کی شدت پسندانہ تشریح رائج ہے اس وجہ سے سکولوں سے لیکر جامعات تک مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں ہے۔ حتی کہ ریستورانوں میں فیملیز کے داخلے کیلیے راستے بھی الگ الگ استعمال کیے جاتے ہیں۔

بارہ سال پہلے 2002 میں مکہ میں بچیونم کے ایک سکول میں آگ بھڑک اٹھنے سے 15 طالبات لقمہ اجل بن گئی تھیں لیکن مذہبی پولیس نے طالبات کی مدد میں بھی روڑے اٹکائے تھے۔

جامعہ شاہ سعود میں طالبہ کی ہلاکت کے واقعے کی پروفیسر حضرات نے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پروفیسر عزیزہ یوسف کا کہنا ہے کہ'' جامعہ کو ایسی انتظامیہ کی ضرورت ہے جو فوری فیصلے کرے اور یہ نہ دیکھے کہ اس پر گھر والے کیا کہیں گے اور سماج کیا کہے گا۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں