ترک ایف 16 نے مسافر طیارے کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی

یوکرین سے آنے والے طیارے کو استنبول کے ہوائی اڈے پر زبردستی اتار لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے ایک ایف سولہ جنگی طیارے نے یوکرین سے آنے والے ایک مسافر طیارے کے اغوا کی کوشش ناکام بنادی ہے اور اس کو زبردستی استنبول کے ہوائی اڈے پر بحفاظت اتار لیا ہے۔

ترک میڈیا کی اطلاعات کے مطابق طیارے میں ایک سو دس مسافر سوار تھے اور یہ یوکرین کے شہر خارکوف سے آرہا تھا۔ایک یوکرینی مسافر نے جمعہ کی شام دوران پرواز طیارے کا رُخ روس کے شہر سوچی کی جانب موڑنے کا مطالبہ کیا تھا جہاں اس وقت سرمائی اولمپکس کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب جاری تھی۔یہ بوئنگ 737 طیارہ ترکی کی پیگاسس فضائی کمپنی کا ملکیتی ہے۔

ہائی جیکر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ یوکرینی شہری ہے اور اس کومعمولی مزاحمت کے بعد ترک سکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔ترکی کے ٹرانسپورٹ کے نائب وزیر حبیب سلوک نے بتایا ہے کہ اس شخص کے پاس ایک ڈیٹونیٹر تھا اور اس نے طیارے کے کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس بم موجود ہے۔البتہ اس کے بیگ میں سے کچھ الیکٹرانک آلات برآمد ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس طیارے کو ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی اغوا کر لیا گیا تھا لیکن پائلٹ نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الرٹ کا اشارہ کیا اور ترک کے ایف سولہ جنگی طیارے نے اس کو استنبول کے صبیحہ گوکچن کے ہوائی اڈے پرزبردستی مگر بحفاظت اتار لیا۔اس کے بعد ترک حکام نے طیارے کی تلاشی شروع کردی تھی۔

استنبول کے گورنر حسین عونی متلو نے ٹویٹر پر اطلاع دی کہ ''آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔تمام مسافروں کو کسی مسئلے کے بغیر طیارے سے اتار لیا گیا ہے''۔انھوں نے لکھا کہ مشتبہ اغوا کار کے بارے میں فوری طور پر کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ اس کا کسی تنظیم سے تعلق ہے۔تاہم اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ ہائی جیکر نے شراب پی رکھی تھی لیکن استنبول کے گورنر نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس مبینہ ہائی جیکر کا طیارے کو اغوا کرنے کا ڈراما رچانے کااصل مقصد کیا تھا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دنیا بھر سے ایتھلیٹ روس کے شہر سوچی میں سرمائی اولمپک مقابلوں میں شرکت کے لیے جمع ہورہے تھے۔اس موقع پر روس اور دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں کیونکہ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے مسلسل ایسی رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ دہشت گرد اس موقع پر بم دھماکے یا کوئی اور تخریبی کارروائی کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں