وزیر اعظم ایردوآن پر تنقید، صحافی ترکی سے بے دخل

آذربائیجانی ماہر زینالوف کا نام ترکی کے ناپسندیدہ صحافیوں کی فہرست میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی میں مقیم العربیہ نیوز کے کالم نگار اور ''ٹو ڈے زمان'' کے آن لائن ایڈیٹر ماہر زینالوف کو وزیراعظم رجب طیب ایردوآن پر تنقید کی پاداش میں بے دخل کردیا گیا ہے۔

زینالوف وسط ایشیائی ریاست آذر بائیجان سے تعلق رکھتے ہیں۔''ٹوڈے زمان'' کی رپورٹ کے مطابق ''زینالوف کو جمعہ کو ان کی ترک اہلیہ کے ہمراہ پولیس کی معیت میں ہوائی اڈے پر لے جایا گیا اور وہ وہاں سے اپنے آبائی وطن روانہ ہوگئے ہیں''۔

اخبار کے مطابق زینالوف کانام ان غیرملکی صحافیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن کے ترکی میں داخلے پر پابندی ہے۔انھوں نے ترکی کے اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کے خلاف ٹویٹر پر تحریریں پوسٹ کی تھیں۔

وزیراعظم دفتر کے رابطہ مرکز نے دعویٰ کیا ہے کہ زیانلوف نے ٹویٹر پر جو بیانات جاری کیے تھے،ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ان کے خلاف اس سے پہلے ترکی میں فوجداری الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔انھوں نے 25 دسمبر 2013ء کو ترکی میں بھونچال برپا کرنے والے کرپشن اسکینڈل کے بارے میں تحریریں پوسٹ کی تھیں۔

ٹوڈے زمان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے زینالوف کی ٹویٹس کو ہتک آمیز اور قوم میں منافرت پھیلنے کی سازش قراردیا تھا۔انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ترک حکومت کے تحت پولیس نے القاعدہ سے وابستہ ایک کاروباری شخصیت یاسین القادی کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے باوجود ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی نہیں کی تھی۔

ان کے بہ قول یاسین القادی کا نام متعدد مغربی ممالک کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا۔ترک پراسیکیوٹرز نے ان سمیت القاعدہ کے وابستگان کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا تھا لیکن وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے مقرر کردہ پولیس سربراہان نے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔اس کے بعد دوسرے ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ پولیس کے چھاپہ مار کارروائی میں پس وپیش کے بعد تمام مشتبہ افراد ترکی سے چلے گئے تھے۔

یورپ کی سلامتی اور تعاون تنظیم (او ایس سی ای) نے آذربائیجانی صحافی کی ترکی بدری کو حکام کا نامناسب فیصلہ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے آزادی اظہار پر قدغنیں لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس اقدام سے صرف دوروز قبل ہی ترکی کی پارلیمان نے انٹرنیٹ پر نئی قدغنوں کی منظوری دی ہے اور یورپی یونین نے ایردوآن حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں