تیونس:ایران کی تنقید کے بعد امریکی وفد کا واک آؤٹ

لاری جانی کا امریکا اور اسرائیل پر عرب بہاریہ انقلابات کو سبوتاژ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس کے نئے آئین کی منظوری کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب میں شریک امریکی وفد ایرانی وفد کی تنقید کے بعد واک آؤٹ کر گیا ہے۔ایرانی وفد کے سربراہ علی لاری جانی نے اپنی تقریر میں امریکا پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ عرب بہاریہ انقلابات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔

تیونس میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''تیونس کی کامیابیوں کو سراہنے کے لیے منعقدہ تقریب کو ایرانی نمائندوں نے امریکا کی مذمت کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا ہے''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''تیونس کی قانون ساز اسمبلی میں منعقدہ تقریب کے دوران ایرانی نمائندے کے امریکا پر غلط الزامات اور نامناسب تبصرے کے بعد وہاں موجود امریکی مندوب اٹھ آئے ہیں''۔

قبل ازیں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر علی لاری جانی نے قومی قانون ساز اسمبلی سے خطاب میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ 2011ء میں جمہوریت کے حق میں برپا ہونے والی عوامی تحریکوں کو تباہ کرنے کے لیے کام کررہے ہیں اور انھوں نے انقلابات کو غلط؛ راہ پر ڈالنے کی کوشش کی ہے تاکہ اسرائیل کو فائدہ پہنچ سکے۔

تیونس کے نئے آئین کی منظوری کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں امریکا کی جانب سے مغربی امور اور مصر کے لیے نائب معاون وزیرخارجہ ولیم روبک شریک تھے۔تقریب میں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند اور متعدد عرب و افریقی ممالک کے لیڈروں نے شرکت کی۔

تیونس کے ایک رکن پارلیمان سلیم بن عبدالسلیم نے کہا کہ تقریب میں کی جانے والی تقریروں کو سنسر کیا جاسکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ ایرانیوں نے جو کچھ کہا،اس کو امریکی پسند نہیں کرتے تھے۔وہ اٹھ کر جاسکتے تھے لیکن ہرکسی کو اپنے اپنے خیالات کے اظہار کا حق حاصل ہے۔

تیونس کی دستور ساز اسمبلی نے 26 جنوری کو ملک کے نئے آئین کی کثرت رائے سے حتمی منظوری دی تھی۔تیونس شمالی افریقہ کے دو دوسرے ممالک لیبیا اور مصر سے اس لحاظ سے بازی لے گیا ہے کہ اس کی اسمبلی نے نئےآئین کو منظور کر لیا ہے حالانکہ ان تینوں ممالک میں 2011ء میں چند ماہ کے وقفے سے ہی عرب بہاریہ تحریکیں اور انقلابات برپا ہوئے تھے۔

لیبیا میں تو بد امنی کا دور دورہ ہے اور سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے باغی جنگجو اب حکومت کے لیے دردسر بنے ہوئے ہیں۔مصر میں مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی نے ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو جولائی 2013ء میں برطرف کردیا تھا اور اب وہ خود صدر بننے کے خواہاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں