لیبیا میں احتجاجی مظاہروں کے بعد 12 ارکان پارلیمان مستعفی

طرابلس اور بن غازی میں اسمبلی کی مدت میں توسیع کے حق اور مخالفت میں ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور دوسرے بڑے شہر بن غازی میں ہزاروں افراد نے قومی نیشنل کانگریس کی مدت میں توسیع کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جس کے بعد بارہ ارکان مستعفی ہوگئے ہیں۔

طرابلس میں عبوری پارلیمان کی مدت میں توسیع کے حامیوں اور مخالفین دونوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ان میں سے بعض مسلح تھے۔لیبیا کی قومی اسمبلی جنرل نیشنل کانگریس (جی این سی) کا 2012ء میں انتخاب کیا گیا تھا اور اس کی مدت کا 7 فروری کو ختم ہوگئی تھی۔

طرابلس کے شہداء اسکوائر میں مظاہرہ کرنے والے افراد نے پرچم اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر ''توسیع'' کے خلاف نعرے درج تھے۔مشرقی شہر بن غازی کے مرکزی چوک میں پُرامن ریلی نکالی گئی۔

واضح رہے کہ جی این سی کی مدت کے حوالے سے قوم پرست قومی اتحاد (این ایف اے) اور اخوان المسلمون کے سیاسی بازو عدل اور تعمیر پارٹی کے درمیان ڈیڈلاک پایا جاتا ہے۔طرابلس اور بن غازی میں احتجاجی مظاہروں کے بعد این ایف اے کا ایک اور دو آزاد ارکان مستعفی ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ نو اور ارکان نے استعفیٰ دیا ہے۔

واضح رہے کہ الزنتان اور مصراتہ سے تعلق رکھنے والے دومتحارب ملیشیاؤں نے این ایف اے اور اسلامی قیادت کے ساتھ اتحاد قائم کررکھا ہے جس کے پیش نظر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مسلح طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں۔

لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے جی این سی کے معاملے پر کشیدگی کے بجائے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ جی این سی نے کئی ماہ کے بحث مباحثے کے بعد گذشتہ سوموار کو اپنے مینڈیٹ میں توسیع کردی تھی۔اب یہ ساٹھ ارکان پر مشتمل ایک کمیشن کا انتخاب کرے گی جو ملک کا نیا آئین مرتب کرے گا۔

اس دستور ساز کمیشن کا 20 فروری کو انتخاب کیا جائے گا۔جی این سی کے ارکان پارلیمان کا کہنا ہے کہ اگر کمیشن نے 60 روز میں آئین کی تدوین کے لیے کوئی پیش رفت نہ دکھائی تو اسمبلی برقرار رہے گی لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر نئی عبوری اسمبلی کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں