ایران کا آئی اے ای اے کے ساتھ ''7 عملی اقدامات'' سے اتفاق

عالمی جوہری ایجنسی اور ایران کے درمیان بات چیت میں نمایاں پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مغرب کے شکوک دور کرنے اور اس کو مزید شفاف بنانے کے لیے جنیوا میں قائم عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ سات عملی اقدامات سے اتفاق کیا ہے۔

آئی اے ای اے میں متعین ایرانی سفیر رضانجفی نے اتوار کو ایسنا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ''عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کے ضمن میں سات مزید عملی اقدامات سے اتفاق کیا گیا ہے،ان پر 15 مئی سے عمل درآمد کیا جائے گا''۔

ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تہران میں ہفتے کے روز مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ایران کے جوہری توانائی ادارے کے ترجمان بہروز کمال وندی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایران آئی اے ای اے کے سوالوں کا جواب دینا چاہتا ہے۔

تہران میں اس بات چیت کے بعد سفارت کاروں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آئی اے ای اے کے سینیر معائنہ کاروں کی ٹیم ایران سے تعاون کے حصول میں کامیاب ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ اعتدال پسند حسن روحانی کے گذشتہ سال بطور صدر انتخاب کے بعد سے ایران کے آئی اے ای اے کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے اور چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ عبوری سمجھوتا طے پانے کے بعد سے مغرب نے ایران پر عایدکردہ بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان نومبر میں جنیوا میں طے پائے عبوری سمجھوتے کی بنیاد پر اب نو روز کے بعد حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ''ان کا ملک عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کو تیار ہےاور وہ اس کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں''۔ایرانی صدر نے کہا کہ ''اگر مغرب مخلص اور سنجیدہ ہے تو پھر سمجھوتا طے پانے کا امکان ہے''۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر کو جوہری پروگرام پر قدغنوں سے متعلق چھے ماہ کے لیے عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر جنوری سے عمل درآمد کا آغاز ہوا ہے اور جولائی میں یہ ختم ہوجائے گا۔اس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگائی ہیں اور اس کے بدلے میں اس پر عاید مغربی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے اور اس کو چھے ماہ کی مدت میں اس کی غیرمنجمد کی گئی چار ارب بیس کروڑ ڈالرز کی رقم اقساط کی شکل میں دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں