لیبیا میں سابق پراسیکیوٹر جنرل قاتلانہ حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیی حکام کے مطابق ملک کے مشرقی شہر درنہ میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے سابق پراسیکیوٹر جنرل عبدالعزیز الحصادی کو ایک حملے میں قتل کردیا ہے۔ لیبی وزیر قانون وانصاف صلاح المرغنی نے الحصادی کے قتل کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کی شام پیش آیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" سے گفتگو کرتے ہوئے صلاح المرغنی کا کہنا تھا کہ سابق پراسیکیوٹر جنرل درنہ شہر میں اپنے ایک رشتہ دار سے ملنے گئے تھے جہاں انہیں شرپسندوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی گولیاں عبدالعزیز الحصادی کے سر اور سینے میں لگیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

خیال رہے کہ مقتول عبدالعزیز الحصادی 15 مارچ 2013ء تک لیبیا کی سپریم کورٹ کے اٹارنی جنرل کے عہدے پر کام کرتے رہے ہیں۔ پچھلے سال وسط مارچ میں انہوں نے خرابی صحت کی بناء پرعہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ الحصادی کے استعفے کے بعد 18 مارچ کو لیبیا کی نیشنل کانگریس [پارلیمنٹ] نے ایڈووکیٹ عبدالقادر رضوان کو نیا پراسیکیوٹر جنرل تعینات کیا تھا۔

ادھر ایک دوسری خبر کے مطابق لیبی ملٹری کے اِثر شہر میں قائم فوجی لیبیارٹری کے ایک عہدیدار ولید علی عیسیٰ المنفی کو بنغازی میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔

بنغازی محکمہ صحت عامہ کے شعبہ اطلاعات ونشریات کے رکن خلیل قویدر نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے القوارشہ کے مقام پر عیسیٰ المنفی کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے مسٹر عیسیٰ المنفی کے سر اور سینے میں قریب سے گولیاں ماریں اور پھر اس کی میت سڑک پر پھینک کر چلے گئے تھے۔ قبل ازیں جمعہ کو بنغازی شہر ہی میں ایک ساابق انٹیلی جنس افسر عاطف المدولی کو نماز عصر کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں