تیونسی اپوزیشن رہ نما محمد البراہیمی کا مبینہ قاتل گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تیونس کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ پولیس نے اپوزیشن رہنما محمد البراہیمی کے قتل میں ملوث مبینہ مرکزی ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی العروی نے میڈیا کو بتایا کہ دارالحکومت تیونسیہ میں پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے بعد حکام نے چار افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں حمد المالکی المعروف "کمانڈر صومالی" بھی شامل ہے۔ الصومالی گذشتہ برس جولائی میں سیکولر اپوزیشن رہ نما محمد البراہیمی کے قتل میں ملوث افراد میں شامل بتایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ محمد البراہیمی کے قاتل کی گرفتاری کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پچھلے ہفتے ایک دوسرے اپوزیشن رہ نما شکری بالعید کے مبینہ قاتل کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ تیونس میں سابق وزیر اعظم علی العریض کی حکومت کی نسبت موجودہ حکومت نے اپوزیشن رہ نماؤں کے قتل میں ملوث عناصر کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

وزیر داخلہ لطفی بن جدو نے وزیر اعظم مہدی جمعہ کی زمام حکومت سنھبالنے کے بعد ایک ماہ میں اپوزیشن رہ نماؤں کے قاتل گرفتار کر لیے ہیں۔ سابق حکومت یہ کام ایک سال میں بھی نہیں کر سکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں