صنعا: وزارت تیل کے نزدیک بم دھماکے میں فوجی کرنل ہلاک

بم انٹیلی جنس کرنل کی کار کی ڈرائیونگ سیٹ کے نیچے نصب کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے دارالحکومت صنعا میں وزارت تیل کے نزدیک بم دھماکے کے نتیجے میں انٹیلی جنس کا ایک کرنل ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ بم انٹیلی جنس کرنل محمد فضل حسین کی کار کی ڈرائیونگ والی نشست کے نیچے نصب کیا گیا تھا اور وہ چلتی کار میں وزارت تیل کی عمارت کے نزدیک دھماکے سے پھٹ گیا۔بم دھماکے سے نزدیک سے گزرنے والی ایک ٹیکسی کار کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اس میں سوار دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔بم دھماکے میں کرنل فضل حسین کا ایک محافظ بھی زخمی ہوا ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن ماضی میں یمن میں سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں پر اس طرح کے بم حملوں اور خودکش بم دھماکوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔یمن کی مرکزی حکومت سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے ملک میں قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔

علی عبداللہ صالح کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ملک کے جنوب مشرقی اور وسطی صوبوں میں شورش پسند قبائلیوں ،جنوب میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور شمال میں حوثی شیعہ باغیوں نے علم بغاوت بلند کر رکھا ہے۔ حوثی باغی یمن کے شمالی صوبوں صعدہ اور عمران میں خودمختاری کے لیے لڑرہے ہیں اور ان کی یمنی فورسز کے علاوہ مقامی اہل سنت قبائل سے بھی لڑائی ہورہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں